14 نومبر 1985
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۲۱، صفحہ ۲۳
شیطان صرف بہکاتا ہے مگر انسان عملی طور پر آپ کے اوپر حملہ آور ہوتا ہے۔ شیطان صوتی آلودگی (noise pollution) پیدا نہیں کرتا ، جب کہ انسان لاؤڈ اسپیکر لگا کر شور کرتا ہے ، اور آپ کے سکون کو درہم برہم کر دیتا ہے۔ شیطان آپ کے اثاثہ پر قبضہ کرنے کا اختیار نہیں رکھتا ، جب کہ انسان آپ کے اثاثہ پر ناجائز قبضہ کرتا ہے ، اور آپ کو جھگڑے اور مقدمات میں الجھا کر آپ کے سارے تعمیری منصوبہ کو ملیا میٹ کر دیتا ہے۔ ابلیس بے سلطان“ شیطان ہے ۔ مگر انسان وہ شیطان ہے ، جس کو وقتی طور پر سلطان بھی دے دیا گیا ہے۔
14 نومبر 1985
دنیا میں آدمی کو بہت سی چیزیں حاصل ہیں — اس کا اپنا وجود ، اس کا گھر اور جائیداد ، اس کے دوست اور رشتہ دار ، اور دوسرے اسباب اور سامان ، وغیرہ۔
یہ جو کچھ انسان کو موجودہ دنیا میں حاصل ہے ، ان کے بارے میں دو نقطہ نظر ہو سکتے ہیں — ایک یہ کہ یہ سب چیزیں ہماری ہیں ، ہم ان کے مالک ہیں۔ دوسرا یہ کہ ہم ان میں سے کسی چیز کے خود مالک نہیں ۔ ہر چیز خدا کی ہے۔ جو کچھ ہمارے پاس ہے ، وہ سامان امتحان کے طور پر ہے ، نہ کہ سامانِ ملکیت کے طور پر۔
پہلا ذہن ناشکری کا ذہن ہے ، اور دوسرا ذہن شکر گزاری کا ذہن ۔ پہلے ذہن کے تحت جو زندگی بنتی ہے ، اس کا نام کفر ہے ، اور دوسرے ذہن کے تحت جو زندگی بنتی ہے ، اس کا نام اسلام ہے۔ پہلے ذہن کے تحت زندگی گزارنے والے کے لیے جہنم ہے ، اور دوسرے ذہن کے تحت زندگی گزارنے والے کے لیے جنت۔
15 نومبر 1985
ظن (گمان) کا مطلب ہوتا ہے کسی کے بارے میں کوئی خاص رائے رکھنا ، ذہن میں کسی کے بارے میں کوئی امیج بنانا ، خواہ وہ اچھا ہو یا برا :
To have a particular opinion about something or someone, to have a picture in the mind.
‹ Previous page Next page › Contents of October 2021 All issues