Al-Risala · October 2021 · page 24

1985 نومبر

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۲۱، صفحہ ۲۴

انسان کو اپنے خالق کے بارے میں اچھا گمان رکھنا چاہیے، اس تعلق سے مختلف احادیث میں رہنمائی کی گئی ہے۔ مثلاً ایک حدیثِ رسول یہ ہے: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي، وَأَنَا مَعَهُ حَيْثُ يَذْكُرُنِي ( صحیح مسلم، حدیث نمبر 2675 ، مسند احمد، حدیث نمبر 10782)۔ یعنی ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ میں اپنے بارے میں بندے کے گمان کے پاس ہوں اور میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں جب وہ مجھے یاد کرتا ہے۔

دوسری روایتوں میں کچھ مختلف الفاظ آئے ہیں۔ چند الفاظ یہ ہیں:

(1) أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي، فَلْيَظُنَّ بِي مَا شَاءَ ( مسند احمد، حدیث نمبر 16016)۔ یعنی میں اپنے بارے میں بندے کے گمان کے مطابق ہوں۔ پس وہ جیسا چاہے میرے بارے میں گمان کرے۔

(2) أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي وَأَنَا مَعَهُ إِذَا دَعَانِي ( صحیح مسلم، حدیث نمبر 2675)۔ یعنی میں اپنے بارے میں بندے کے گمان کے مطابق ہوں، اور میں اس کے ساتھ ہوں، جب وہ مجھ کو پکارے۔

(3) أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي، إِنْ ظَنَّ خَيْرًا فَخَيْرٌ ، وَإِنْ ظَنَّ شَرًّا فَشَرٌّ (معجم الاوسط للطبرانی، حدیث نمبر (401)۔ یعنی میں اپنے بارے میں بندے کے گمان کے پاس ہوں۔

اگر اس نے اچھا گمان کیا تو خیر ہے، اور اگر اس نے برا گمان کیا تو برا ہے۔

1985 نومبر

حضرت بریدہ اسلمی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو یہ دعا کرتے ہوئے سنا: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنِّي أَشْهَدُ أَنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ الْأَحَدُ الصَّمَدُ، الَّذِي لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ، قال: فَقَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ سَأَلَ اللَّهَ بِاسْمِهِ الْأَعْظَمِ الَّذِي إِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ، وَإِذَا سُئِلَ بِهِ أَعْطَى ( سنن الترمذي،

‹ Previous page Next page › Contents of October 2021 All issues

Printed page