1985 نومبر
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۲۱، صفحہ ۲۵
حدیث نمبر 3475)_ یعنی اے اللہ میں تجھ سے سوال کرتا ہوں، کیونکہ میں گواہی دیتا ہوں کہ تو ہی اللہ ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو اکیلا ہے، بے نیاز ہے، نہ اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے، اور کوئی اس کے برابر کا نہیں ۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس آدمی نے اللہ کا ایک بہت بڑا نام (اسم اعظم) لے کر دعا کی ہے۔ یہ نام لے کر جب سوال کیا جائے تو وہ پورا کیا جاتا ہے اور جو دعا کی جائے وہ قبول ہوتی ہے۔
اس حدیث کے مطابق لوگوں کو تلاش ہوئی کہ خدا کا ’’اسم اعظم‘‘ کیا ہے۔ اس تلاش میں بہت سی دوسری روایتیں بھی ملیں جن میں یہی بات کہی گئی تھی۔ مگر ان روایتوں میں دوسرے ایسے اسماء تھے جو اس حدیث میں نہیں ہیں۔ البتہ لفظ اللہ تمام روایتوں میں مشترک تھا، اس سے یہ استدلال (reasoning) قائم کر لیا گیا کہ اللہ ہی اسم اعظم ہے (اَنَّ لَفْظَ اﷲِ مَذْكُورٌ فِی الْکُلِّ فَيُسْتَدَلُّ بِذٰلِكَ عَلَى اَنَّهُ الْاِسْمُ الْاَعْظَم) تحفۃ الاحوذی، جلد 9، صفحہ 313۔ اس استنباط (inference) کے مطابق لوگ ’’اللہ‘‘ کو اسم اعظم سمجھ کر اس کا ورد کرنے لگے۔ مگر حدیث کا یہ مطلب نہیں۔ حدیث میں لفظ ’’اسم‘‘ صفت کے معنی میں ہے اس سے مراد کوئی خاص لفظ نہیں۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ جب آدمی اللہ کی صفات عالیہ کو دریافت کرتا ہے اور اس کا اظہار کرتے ہوئے بے تابانہ خدا کو پکارتا ہے تو ایسی پکار ضرور قبولیت کا درجہ حاصل کر لیتی ہے۔ 18 نومبر 1985 ایک انسان جب گاڑی کو چلاتਾ ہے تو اس کا نام بھی چلنا ہے، اور اگر گاڑی کا انجن چلا کر اسے چھوڑ دیں تب بھی وہ دوڑے گی اور اس کو بھی چلنا کہا جائے گا۔ مگر حقیقت میں چلنا وہی ہے جب کہ انسان گاڑی کو چلا رہا ہو (یا ایسی گاڑی ہو جو آٹو پائلٹ (autopilot) نظام سے لیس ہو، جس کو سیلف ڈرائیونگ کار کہا جاتا ہے)۔ کیوں کہ انسان گاڑی کو چلانے کے ساتھ اس کو روکنا بھی جانتا ہے۔ وہ آگے بڑھانے کے ساتھ اس کو موڑنا بھی جانता ہے۔ جب کہ ڈرائیور کے بغیر جو گاڑی ہو وہ صرف سیدھی دوڑتی رہے گی، یہاں تک کہ کہیں ٹکرا کر ختم ہو جائے گی۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2021 All issues