1985 نومبر
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۲۱، صفحہ ۲۸
مند کی مدد کی جائے تو اس وقت زبان سے یہ الفاظ دہرائے جاتے رہیں۔ اس سے مراد الفاظ نہیں احساسات ہیں۔ یعنی جب کسی کے ساتھ حسن سلوک کیا جائے تو آدمی کے دل میں یہ احساس طاری ہونا چاہیے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ ان الفاظ کو یاد کرلے اور ہر ایسے موقع پر ان الفاظ کو دہرادیا کرے۔ کبھی زبان سے کچھ الفاظ بھی نکل پڑتے ہیں، مگر اصلًا یہاں جس چیز کا ذکر ہے وہ احساسات ہی ہیں۔ 1985 نومبر 23 قرآن میں ایک سے زیادہ مقام پر یہ بات کہی گئی ہے کہ قرآن عربی زبان میں ہے (بِلِسَانٍ عَرَبِیّ مُبِین ) 196:26۔
اس قسم کی آیات کے تحت یہ بحث چھڑ گئی کہ اس کا مطلب کیا ہے۔ کیوں کہ قرآن میں بہت سے الفاظ غیر عربی ہیں۔ کسی نے کہا کہ قرآن میں 27 الفاظ غیر عربی ہیں۔ کسی نے اس کی گنتی 60 تک پہنچادی۔ مثلاً حسب ذیل الفاظ :
سَلْسَبِیل، کَوْثَر، سِجِّیل، کافُور، قَرَاطِیس، رَقّ، مِشْکَاة، سُرَادِق، سُنْدُس، إِسْتَبْرَق، قَسْوَرَة، فِرْدَوْس، تَنُّور، زَنْجَبِیل، عَبْقَرِیّ، وغیرہ۔ علما کی بڑی تعداد اس طرف گئی کہ جب قرآن کا یہ دعویٰ ہے کہ وہ عربی زبان میں ہے تو اس میں غیر عربی الفاظ نہیں ہوسکتے۔ چنانچہ مذکورہ قسم کے فارسی، رومی، حبشی، نبطی، ہندی وغیرہ الفاظ کی موجودگی کی عجیب عجیب تاویلیں کی گئیں۔ مثلاً کہا گیا کہ یہ الفاظ اصلاً عربی ہی کے تھے۔ کچھ دنوں کے بعد وہ عربی زبان سے مخفی ہوگئے۔ پھر قرآن نے دوبارہ ان کو عربی میں داخل کیا۔ یہ سب غیر ضروری تاویلیں ہیں۔ اصل یہ ہے کہ ہر زبان میں دوسری زبان کے الفاظ شامل ہوتے رہتے ہیں۔ اس کے باوجود زبان وہی رہتی ہے۔ مثلاً تامس پائلیز (Thomas Pyles) کی ایک کتاب ہے جس میں اس نے انگریزی زبان کے آغاز وارتقا سے بحث کی ہے۔ اس کا نام ہے : The Origins and Development of the English Language اس کتاب میں اس نے ہندی، لاطینی، فرانسیسی، روسی، جرمن وغیرہ زبان کے بہت سے الفاظ کی فہرست دی ہے جو انگریزی میں مستعمل ہیں۔ وہ لکھتا ہے کہ یہ الفاظ اگرچہ ابتدا میں دوسری
‹ Previous page Next page › Contents of October 2021 All issues