1985 نومبر
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۲۱، صفحہ ۲۹
زبانوں کے تھے۔ مگر جب وہ انگریزی میں شامل ہو گئے تو وہ انگریزی ہو گئے، اور انگریزی پھر بھی انگریزی رہی:
But English remains English. 25 نومبر 1985 ایک شاعر کا شعر ہے:
ابھی بھولے نہیں ہم خالد و طارق کے افسانے فتوحات صلاح الدین ابھی روشن ہے دنیا میں اس قسم کے اشعار اور اس قسم کی تقریروں اور تحریروں سے ہماری جدید تاریخ بھری ہوئی ہے۔ ہر آدمی جو اٹھتا ہے وہ یہیں سے اپنے کلام کا آغاز کرتا ہے کہ ہم نے ایک ہزار برس تک دنیا پر حکومت کی ہے۔ ہم نے روم و ایران کی سلطنتوں کے پرخچے اڑا دئیے ۔ ہم نے ہندوستان سے لے کر فرانس تک اسلامی اقتدار کا جھنڈا گاڑ دیا، وغیرہ وغیرہ۔
موجودہ زمانہ میں تمام دنیا کے مسلمانوں کا ذہن یہی ہے۔ آج کا ہر شخص اس اسلامی تاریخ کو بطور اسلام جانتا ہے، جس نے فتح و غلبہ حاصل کیا۔ کوئی بھی شخص نہیں جو اس اسلام سے واقف ہو جس نے اقوام عالم کو دعوت و رحمت کا مخاطب بنایا۔ جس نے مکہ میں ہر قسم کے مظالم کے باوجود صبر و اعراض کا طریقہ اختیار کیا۔ جو حدیبیہ کے موقع پر پسپائی کی پالیسی اختیار کرنے پر راضی ہو گیا۔ جس نے خانہ کعبہ میں سیکڑوں بت دیکھے مگر اس کو برداشت کرتا رہا۔ تا کہ وہ انسانوں کو خدا سے قریب کر سکے۔ یہ صورت حال نہایت تشویش ناک ہے۔ کیوں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان گزری ہوئی تاریخ میں اٹکے ہوئے ہیں، وہ زندہ خدا کو پانے میں ناکام رہے ۔ ان کے پاس "حال" کا کوئی سرمایہ نہیں، وہ صرف "ماضی" کی یادوں کے بل پر جی رہے ہیں۔
المنجد ایک مشہور عربی لغت ہے۔ اس کو ایک عیسائی عالم لوئیس معلوف (1946-1867)
‹ Previous page Next page › Contents of October 2021 All issues