3 دسمبر 1985
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۲۱، صفحہ ۳۲
دوسری مصلحت پر غالب ہونا چاہیے اور دوسری تمام چیزوں کو اس کے ماتحت۔ ایک صاحب سے گفتگو ہوئی۔ گفتگو کا موضوع تھا کہ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا دین کیا ہے اور صحابہ کرام کا دین کیا تھا۔
میں نے کہا کہ، ایک لفظ میں، ہمارا اور صحابہ کرام کا فرق یہ ہے کہ ہم نفرت اقوام پر کھڑے ہوئے ہیں اور صحابہ کرام محبتِ اقوام پر کھڑے ہوئے تھے۔ یہی وہ چیز ہے جس نے وہ تمام فرق پیدا کر دیا ہے جو ہمارے اور صحابہ کے درمیان پایا جاتا ہے۔
3 دسمبر 1985
ایک نوجوان نے گفتگو کے دوران اپنی شادی کا ذکر کیا۔ انھوں نے کہا کہ میری شادی میرے ماں باپ نے کر دی، مگر میری جو بیوی ہے، وہ مجھ کو پسند نہیں۔
میں نے کہا کہ سب سے زیادہ پسندیدہ شادی وہ ہے، جو ناپسندیدہ شادی ہو۔ میں نے کہا کہ میرے اس قول کو آپ لکھ لیجیے اور اس کو 20 برس بعد دیکھیے گا۔ کیوں کہ ان الفاظ کی معنویت کو آپ آج سمجھ نہیں سکتے۔ اس کی معنویت آپ کی سمجھ میں اس وقت آئے گی جب کہ میری طرح آپ کے بال سفید ہو چکے ہوں گے۔
4 دسمبر 1985
ایک صاحب سے ہندوستان کے بارے میں گفتگو ہوئی۔ میں نے کہا کہ ہندو ایک مظاہر پرست قوم ہے۔ وہ ہر نمایاں چیز کے آگے عقیدت سے جھک جاتی ہے، خواہ وہ پیپل کا درخت ہو یا ہمالیہ پہاڑ، یا اور کوئی نمایاں چیز۔ اپنے اس مزاج کی وجہ سے ہندو قوم بہت جلد کسی کی عقیدت مند ہو جاتی ہے۔ آپ کوئی اعلیٰ اخلاقی سلوک کریں۔ کسی برتر انسانی معاملہ کا ثبوت دیں تو ہندو فوراً جھک جائے گا۔ وہ کہے گا کہ آپ تو دیوتا ہیں۔ میں نے اس سلسلہ میں کئی واقعاتی مثالیں دیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2021 All issues