29 نومبر 1985
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۲۱، صفحہ ۳۱
بماثور الخطاب، حدیث نمبر (7799) یعنی زمزم کا پانی اور دوزخ کی آگ ایک انسان کے پیٹ میں کبھی جمع نہیں ہو سکتے۔
اس بنیاد پر فقہانے زمزم کے آداب مقرر کیے ہیں۔ فتاوی عالم گیری میں ہے کہ زمزم کا پانی خود اپنے ہاتھ سے نکالا جائے اور قبلہ کی جانب رخ کر کے خوب سیر ہو کر پیا جائے اور ہر سانس پر نظر اٹھا کر بیت اللہ کو دیکھے اور بچا ہوا پانی اپنے منہ اور جسم پر مل لیا جائے اور ہو سکے تو کچھ اپنے جسم پر بھی ڈال لے۔ مسلمانوں نے بعد کے زمانے میں ہر چیز کو مسئلہ بنا دیا۔ حتیٰ کہ زمزم پینے کو بھی۔ مسائل زمزم اس سے بھی زیادہ ہیں جتنا اوپر نقل ہوئے۔
29 نومبر 1985
ہر شخص یا ہر قوم کی زندگی میں ایسی کوئی چیز ہوتی ہے، جس کو وہ سب سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ ہر دوسری چیز اس کے ماتحت ہوتی ہے۔ ہر دوسری چیز کے بارے میں اپنے رویہ کا فیصلہ اس کی روشنی میں کیا جاتا ہے۔ موجودہ زمانے میں تمام قوموں کا حال یہ ہے کہ ان کے لیے ان کا قومی مفاد (نیشنل انٹرسٹ) سپریم بنا ہوا ہے۔ ہر دوسری چیز نیچے ہے، اور قومی مفاد ہر چیز کے اوپر۔ یہی موجودہ زمانے میں مسلمانوں کی حالت بھی ہے۔ انھوں نے بھی اپنے قومی مفاد کو اپنی زندگی میں سب سے اونچا مقام دے دیا ہے۔
مسلمان اگر چہ اس کے لیے اسلامی اصطلاحات استعمال کرتے ہیں۔ مثلاً دوسرے لوگ اگر قومی مفاد کا لفظ بولتے ہیں تو مسلمان ملی مفاد کا لفظ بولتے ہیں۔ دوسروں کے پاس اگر قومی غیرت کا لفظ ہے تو مسلمانوں کو اسلامی حمیت اور دینی غیرت کا لفظ ملا ہوا ہے۔ دوسرے لوگ جس کو قومی لڑائی کہتے ہیں اس کو مسلمانوں نے مقدس جہاد کا نام دے رکھا ہے۔
مگر اس سے اصل واقعہ میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اسلامی الفاظ بولنے سے مسلمانوں کی قوم پرستی خدا پرستی نہیں بن جائے گی۔ اہل ایمان کے لیے جو چیز سب سے زیادہ اہم ہونی چاہیے وہ دعوت الی اللہ ہے۔ ہمارے تمام معاملات کو دعوت کی روشنی میں طے کیا جانا چاہیے۔ دعوتی مصلحت کو ہر
‹ Previous page Next page › Contents of October 2021 All issues