Al-Risala · October 2021 · page 34

7 دسمبر 1985

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۲۱، صفحہ ۳۴

اور اللہ اپنے بندوں کے ساتھ نا انصافی کرنے والا نہیں۔ بعض لوگ اس کا مطلب یہ بتاتے ہیں کہ خدا زیادہ بڑا ظالم نہیں، یعنی وہ چھوٹے درجہ کا ظلم کر سکتا ہے۔ البتہ وہ بڑے درجہ کا ظلم کرنے والا نہیں۔ کیوں کہ آیت میں ظلام کا لفظ آیا ہوا ہے، جس کا لفظی مطلب ہے بہت ظلم کرنے والا۔ مگر آیت کا یہ مطلب نہیں۔ نحو (عربی گرامر) کا یہ اصول ہے کہ نفی (negative) کے بعد جب مبالغہ آتا ہے تو سارا زور نفی (انکار عمل) کے لیے ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ ذرا بھی ظلم کرنے والا نہیں، نہ یہ کہ اللہ بڑا ظلم کرنے والا نہیں۔

7 دسمبر 1985

ایک صاحب کے خط کا جواب دیتے ہوئے یہ چند سطریں لکھیں: اللہ تعالیٰ کے یہاں اصل قیمت کیفیت (quality) کی ہے، نہ کہ کمیت (quantity) کی۔ زندگی کے چند لمحات بھی اگر اللہ کی معرفت میں گزر جائیں تو، ان شاء اللہ، آخرت میں بھی اللہ کا پڑوس نصیب ہوگا، اور اللہ کے پڑوس ہی کا دوسرا نام جنت ہے (التحریم، 11: 66)۔

9 دسمبر 1985

الرسالہ میں فرقہ وارانہ فساد کے مسئلہ پر جب تبصرہ کیا جاتا ہے تو یک طرفہ طور پر صرف مسلمانوں کی کوتاہی کا ذکر کیا جاتا ہے۔ اس پر ایک صاحب نے کہا کہ یہ اندازِ انصاف کے خلاف ہے۔ آپ کو دونوں طرف کی غلطیاں اور کوتاہیاں بتانا چاہیے۔

میں نے کہا کہ ظاہری اعتبار سے دیکھنے میں آپ کی بات درست معلوم ہوتی ہے۔ مگر اصلاح اور تربیت کے اعتبار سے یہ غیر مفید بلکہ نقصان دہ ہے۔ اگر ہم یہ کہیں کہ یہ پچاس فی صد اور پچاس فی صد کا معاملہ ہے۔ یعنی نصف غلطی ایک فریق کی ہے اور نصف غلطی دوسرے فریق کی ہے، تو اس طرح فوکس بدل جائے گا۔ مسلمان 50 فی صد یا اس سے کم ہی اپنی کوتاہیوں پر اپنا دھیان جما سکیں گے۔ اس لیے داعی اور مصلح یہ کرتا ہے کہ وہ صرف ایک ہی فریق کی کوتاہیوں کو بیان کرتا ہے تا کہ فوکس نہ بدلے اور اس کی ساری توجہ اپنے احتساب اور اصلاح پر لگ جائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2021 All issues

Printed page