Al-Risala · October 2021 · page 35

10 دسمبر 1985

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۲۱، صفحہ ۳۵

قرآن کا طریقہ یہی ہے۔ چنانچہ وہ فریق ثانی کی سازشوں اور مظالم کو غیر مذکور چھوڑ کر صرف مسلمانوں کی کوتاہیوں پر انھیں توجہ دلاتا ہے جس کی ایک مثال احد (3:155) اور حنین (9:25) کے بارے میں قرآن کا تبصرہ ہے۔

10 دسمبر 1985

جب بھی کوئی اقدام کیا جائے تو ہمیشہ یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ نتیجہ خیز (productive) ہے یا نہیں۔ اقدام ہمیشہ کسی نتیجہ کے لیے ہوتا ہے، نہ کہ محض اقدام برائے اقدام۔ بے فائدہ اقدام نہ کرنا بھی ایک مفید عمل ہے۔ کیوں کہ اس سے قوتیں محفوظ رہتی ہیں اور اس کا امکان باقی رہتا ہے کہ وہ کسی نتیجہ خیز منصوبہ میں استعمال ہوسکیں۔ انسان ہمیشہ کچھ کرنا چاہتا ہے۔ جب تخریبی کارروائیاں بند ہوتی ہیں اس وقت تعمیری سرگرمیاں شروع ہوجاتی ہیں۔ غلط اقدامات کی طرف دوڑانے والے لیڈر اگر خاموش بیٹھے رہیں تب بھی وہ ایک فائدہ پہنچائیں گے۔ وہ قوم کو غلط رخ پر نہ دوڑا کر اسے موقع دیں گے کہ وہ اپنی فطرت کے زور پر مفید اور صالح رخ پر اپنا سفر جاری کر سکے۔

11 دسمبر 1985

خیرالدین پاشا باربروسہ (Hayreddin Barbarossa, b. 1466) سمندری جہازرانی کا بہت بڑا ماہر تھا اور نہایت بہادر آدمی تھا۔ اس کو امیر البحر کہا جاتا تھا۔ سولھویں صدی عیسوی میں ترکی کے عثمانی سلطنت کے بحری بیڑے کو جو عظمت حاصل ہوئی اس کا اصل ہیرو یہی شخص تھا۔ کہا جاتا ہے کہ خیرالدین باربروسہ اپنے زمانے کا سب سے بڑا امیر البحر تھا۔ اس کی مہارت اور بہادرانہ کارروائیوں کا نتیجہ یہ ہوا کہ مشرق سے مغرب تک ترکی بیڑے کا راج قائم ہوگیا۔ خیرالدین باربروسہ نے تقریبا اسّی سال کی عمر میں جولائی 1546 میں وفات پائی۔ اس کو بشک طاشی (Beşiktaş) میں دفن کیا گیا۔ اس کی قبر پر جو کتبہ لگا ہوا ہے اس میں یہ الفاظ لکھے ہوئے ہیں ـــــــ مات امیر البحر

‹ Previous page Next page › Contents of October 2021 All issues

Printed page