Al-Risala · October 2021 · page 38

1985 دسمبر 17

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۲۱، صفحہ ۳۸

جب بھی کوئی قوم ترقی کے درجہ پر پہنچتی ہے تو وہ دوسری اقوام پر غلبہ حاصل کرنے کے لیے اسی قسم کے نظریات وضع کرتی ہے۔ میرے نزدیک مسلمانوں میں اسلامی خلافت کا تصور بھی اسی قسم کے ذہن کی پیداوار ہے۔ یہ نظریہ کہ انسان دنیا میں خدا کا خلیفہ ہے‘‘ قرآن و سنت میں کہیں مذکور نہیں، اور نہ صحابہ کے زمانے میں اس نظریے کا ثبوت ملتا ہے۔ یہ نظریہ دراصل عباسی دور میں پیدا ہوا، اور اس کا تصور یہ تھا کہ ساری دنیا میں اپنا غلبہ قائم کرنے کے لیے فکری جواز فراہم کیا جائے۔ میرے نزدیک مسلمان خدا کے خلیفہ نہیں، بلکہ وہ خدا کے پیغام بر ہیں۔ انھیں اس تعلیم کو تمام انسانوں تک اس کی قابل فہم زبان (understandable language) میں پہنچانا ہے، جو قرآن وسنت کی صورت میں ان کے پاس محفوظ ہے۔

1985 دسمبر 17

مستشرقین نے جو کتابیں لکھی ہیں ان میں سے ایک نوع کی کتابیں وہ ہیں جو اسلامی قوموں کے مطالعہ پر لکھی گئی ہیں۔ ان کتابوں میں استدلال کا طریقہ بڑا عجیب و غریب ہوتا ہے۔ ان میں بعض غیر متعلق واقعات کو لے کر دکھایا گیا ہے کہ بعض قوموں (مثلاً الجزائر کے مسلمان) کا اسلام جانور پرستی، شجر پرستی اور ستارہ پرستی سے قریب ہے۔ حتیٰ کہ اسلام اور بت پرستی میں کوئی قابلِ ذکر فرق نہیں۔ بلکہ اسلام بت پرستی ہی کا تتمہ ہے۔

ان مستشرقین کی اکثریت عربی زبان سے برائے نام واقف تھی۔ اس لیے انھوں نے اسلام کو سمجھنے میں نہایت احمقانہ قسم کی غلطیاں کی ہیں۔ تاہم خود مستشرقین کے حلقے میں سے گہر ا علم رکھنے والے لوگوں نے ان باتوں کی تردید کی ہے۔

پروفیسر Alain نے اس کمی کو محسوس کیا۔ انھوں نے ان مستشرقین کا مذاق اڑاتے ہوئے لکھا ہے کہ اگر میں اپنے قلم کو مخاطب کر کے یہ کہوں کہ اے میرے محبوب قلم، اور اس جملہ کو علم الاجتماع کے یہ ماہرین اپنی تحقیق میں شامل کر لیں تو وہ اس جملہ کوروحانیت سے منسوب کر دیں گے اور یہ کہیں

‹ Previous page Next page › Contents of October 2021 All issues

Printed page