Al-Risala · October 2021 · page 40

21 دسمبر 1985

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۲۱، صفحہ ۴۰

نَفْسِهِ (الرَّحْمَةَ) ۔ موجودہ دنیا میں انسان کے پاس اقتدار ہے۔ مگر اس نے اپنے آپ کو حرمت اور عدل کا پابند نہیں کیا ہے، اس لیے موجودہ دنیا فساد اور خرابیوں سے بھر گئی ہے۔ مگر آخرت میں سارا اقتدار صرف ایک اللہ کے پاس ہوگا، اور اللہ نے ہر قسم کا مطلق اختیار رکھنے کے باوجود اپنے آپ کو رحمت اور عدل کا پابند کر رکھا ہے۔ اس لیے آخرت کی دنیا سراپا خیر ہوگی۔ وہاں صرف وہی ہوگا جو حق کے اعتبار سے ہونا چاہیے، اور وہ نہ ہو سکے گا جو حق کے اعتبار سے درست نہ ہو۔ آخرت کی یہ خصوصیت آخرت کو ایک معیاری دنیا بنا دے گی۔ اسی معیاری دنیا کا دوسرا نام جنت ہے۔

21 دسمبر 1985

ہر بات کو سمجھنے کے لیے عقل کی ضرورت ہے۔ اگر عقل کو استعمال نہ کیا جائے تو کوئی بات بھی سمجھ میں نہیں آسکتی، حتی کہ قرآن وحدیث کی بات بھی نہیں۔ مثلاً حدیث میں آیا ہے: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلَكَ الْمُتَنَطِّعُونَ قَالَهَا ثَلَاثًا (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2670) ۔ یعنی شدت کرنے والے ہلاک ہو گئے۔ یہ بات تین بار فرمائی۔

اگر ان الفاظ کو سادہ طور پر بالکل ظاہری معنی میں لے لیا جائے تو اس کا مطلب یہ بنتا ہے کہ ہر چیز جس میں شدت کا پہلو ہو وہ ہلاکت کا سبب ہے، اس لیے اسے چھوڑ دینا چاہیے۔ مثلاً گرمی کے موسم میں روزہ رکھنا۔ مہنگائی کے وقت جانور کی قربانی دینا، وغیرہ۔ مگر حدیث کا یہ مطلب نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس حدیث کو صحیح طور پر سمجھنے کے لیے اس میں ایک لفظ کا اضافہ کرنا ہوگا۔ یعنی اس کو اس طرح کہنا ہوگا: ”هَلَكَ الْمُتَنَطُّعُونَ“ اى المشددون فى غير موضع التشديد (وہ لوگ ہلاک ہو گئے جو شدت نہ کرنے کی جگہ پر شدت کا طریقہ اختیار کرتے ہیں) ۔ 23 دسمبر 1985 پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کا ایک واقعہ ان الفاظ میں آیا ہے: جَاءَ أَخُوْهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ وَابْنَا عَمِّهِ حَوْيِصَةُ وَمُحَيِّصَةُ فَأَتَوُا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَكَلَّمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فِي أَمْرِ أَخِيهِ وَهُوَ أَصْغَرُهُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ

‹ Previous page Next page › Contents of October 2021 All issues

Printed page