Al-Risala · October 2021 · page 41

24 دسمبر 1985

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۲۱، صفحہ ۴۱

عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْكِبْرَ الْكِبْرَ (سنن ابوداؤد، حدیث نمبر 4520)۔ یعنی کچھ بھائی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے۔ تو ان کے چھوٹے نے بولنا شروع کیا۔ آپ نے فرمایا: اپنے بڑے کو بولنے دو، اپنے بڑے کو بولنے دو۔

یہ صرف ادب کی بات نہیں بلکہ حکمت کی بات ہے۔ جو شخص عمر میں زیادہ ہو اس کا علم اور تجربہ بھی زیادہ ہوگا۔ وہ دوسروں سے زیادہ سنجیدہ ہوگا۔ ایسی حالت میں چھوٹوں کو جاننا چاہیے کہ ان کے بڑے زیادہ مستحق ہیں کہ وہ بولیں۔ یہ ایک اہم اصول ہے جس کا تعلق ایک خاندان کے افراد سے بھی ہے اور پوری قوم سے بھی۔

24 دسمبر 1985

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ایک قول یہ ہے : ما من شاب أكرم شيخاً لسنه إلا قيض الله له عند شيبته من يكرمه (المنتقى من مسموعات مرو للمقدسی، حدیث نمبر 166)۔ یعنی جو نو جوان کسی بوڑھے کی اس کے بڑھاپے کے وقت عزت کرتا ہے تو اللہ اس کے لیے ایسے شخص کو مقدر کر دیتا ہے جو اس کے بڑھاپے کی عمر میں اس کی عزت کرے۔ اصل یہ ہے کہ ہر شخص اپنے عمل سے سماج کے اندر روایت (tradition) قائم کرتا ہے۔ اگر لوگ اپنے بوڑھوں کی عزت نہ کریں تو ماحول میں بوڑھوں کی بے عزتی کی روایت قائم ہوگی۔ اس کے برعکس، اگر لوگ اپنے بوڑھوں کی عزت کریں تو اس سے ماحول میں بوڑھوں کی عزت کرنے کی روایت قائم ہوگی۔ جس طرح آدمی اپنی بوئی ہوئی فصل کو کاٹتا ہے۔ اسی طرح لوگ اپنے ماحول میں جس قسم کی روایت قائم کریں اس کا ایک حصہ انھیں خود بھی بھگتنا پڑتا ہے۔ 25 دسمبر 1985 پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ایک روایت ان الفاظ میں آتی ہے: مَا أَكْرَمَ النِّسَاءَ إِلَّا كَرِيمٌ وَلَا أَهَانَهُنَّ إِلَّا لَئِيمٌ (تاریخ دمشق لابن عساکر، جلد 13، صفحہ 313)۔ یعنی عورت کی عزت وہی کرتا ہے جو شریف ہو اور عورت کی بے عزتی وہی کرتا ہے جو کمینہ ہو۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2021 All issues

Printed page