Al-Risala · June 2021 · page 45

ایک سوال

الرسالہ، جون ۲۰۲۱، صفحہ ۴۵

ایک سوال

ایک حدیث ہے: عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يُوشِكُ أَنْ يَكُونَ خَيْرَ مَالِ الْمُسْلِمِ غَنَمٌ يَتْبَعُ بِهَا شَعَفَ الْجِبَالَ وَمَوَاقِعَ الْقَطْرِ، يَفِرُّ بِدِينِهِ مِنَ الْفِتَنِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 19) ۔ یعنی ابوسعید خدری روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا وہ وقت قریب ہے جب کہ مسلمان کا عمدہ مال بکریاں ہوں گی، جن کے پیچھے وہ پہاڑوں کی چوٹیوں اور برساتی وادیوں میں چلا جائے گا۔ وہ اپنے دین کو فتنے سے بچانے کے لیے بھاگ جائے گا۔

اس حدیث کا مطلب کیا ہے۔ (مزقرة العین، لاہور)

اس حدیث رسول میں تمثیل کی زبان میں یہ بتایا گیا ہے کہ ایک زمانہ آئے گا، جب کہ انسان کے لیے فتنے سے بچنے کی صورت صرف یہ ہوگی کہ وہ اپنے اور اپنے گھر والوں کے لیے سادہ زندگی پر راضی ہو جائے۔ اگر وہ سادہ زندگی سے زیادہ چاہے گا تو وہ صرف اس قیمت پر ممکن ہوگا کہ دینی اعتبار سے اس کی ترقی بند ہو جائے ۔ اس کے معرفت کا سفر رک جائے ۔ اگر وہ سادہ زندگی سے زیادہ چاہے گا، تو وہ صرف اس صورت میں ہوگا کہ وہ اپنی آمدنی کو بڑھائے۔ اپنے آپ کو زیادہ سے زیادہ دنیا میں لگائے۔ اپنی آمدنی کو بڑھانے کے لیے مادی زندگی کے لیے سارا وقت استعمال کرے۔ اس دنیا میں آدمی کے لیے دنیا پرستی سے بچنے کی صورت صرف یہ ہے کہ وہ لگژوریس لائف اسٹائل (luxurious lifestyle) کو اپنا نشانہ بنانے کے بجائے سادہ زندگی ، اونچی سوچ (simple living, high thinking) کا طریقہ اختیار کرے ۔ وہ اپنے اندر ربانی شخصیت کی تعمیر کرے ، جو اس کو ابدی جنت کا مستحق بنائے گا۔ اس دنیا میں شیطان سے بچنے کی صرف ایک صورت ہے، اور وہ ہے سادہ زندگی ۔ اس کے بجائے آدمی اگر کوئی اور زندگی اختیار کرے، تو وہ شیطان کے فریب سے بچ نہیں سکتا۔ وہ شیطان کے فتنوں کا شکار ہو کر رہے گا۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2021 All issues

Printed page