30 دسمبر 1985
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۲۱، صفحہ ۴۶
ناکامی سے کامیابی کو نچوڑنا سیکھیں (مولانا وحید الدین خاں کی مثبت فکر، ایک جائزہ)
یہ مادی دنیا، جس میں انسان اپنی زندگی گزار رہا ہے، یہاں جب تک انسان کی سانسیں باقی ہیں اسے ہر لمحہ ولحظہ امتحان واختبار سے گزارا جا رہا ہے۔ یہ ایسا قدرتی عمل ہے جس کو ہر سنجیدہ انسان اپنی زندگی میں دیکھتا اور محسوس کرتا ہے۔ پریشانیوں اور غم واندوہ کے لمحات ہر انسان پر آتے ہیں۔ اب زندگی گزارنے کی ایک صورت یہ ہے کہ پریشانی یا دکھ غم کو زندگی کا وقتی حصہ سمجھ کر اسے اگنور کیا جائے، اور آگے کا سفر طے کیا جائے تاکہ نئے راستے اور نئی منزلیں مل سکیں ۔ اس کے برعکس، دوسری صورت یہ ہے کہ ان حزن وغم کے لمحات کو وقتی سمجھ کر اگنور کرنے کے بجائے انہی کے دائرہ میں اپنی زندگی کاٹی جائے اور امید اور روشنی کے سارے راستوں کو بند سمجھا جائے۔ اس دوسرے قسم کے انسان کی زندگی فقط افسوس اور حسرتوں کی زندگی ہوگی، ایسا انسان حقیقت پسندانہ زندگی نہیں گزار سکے گا۔ اس حوالہ سے سب سے جامع اور مکمل رہنمائی رسول اللہ کی زندگی میں ملتی ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم 570 عیسوی میں پیدا ہوئے۔ چالیس سال بعد 610 عیسوی میں آپ کو نبوت ملی، 622 عیسوی کو آپ نے مکہ سے مدینہ ہجرت فرمایا، اور 632 عیسوی میں مدینہ میں آپ کا انتقال ہوا۔ آپ کا یہ سارا دعوتی سفر عزم و یقین سے بھر پور ایک داستان حیات ہے۔ مثلاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام، اور آپ کا ساتھ دینے والے بنی ہاشم کو 7 نبوی 615ء میں مکہ والوں کی طرف سے مکمل معاشرتی مقاطعہ (social boycott) کا سامنا کرنا پڑا اور یہ معاشرتی پابندی (10 محرم) نبوت کے دسویں سال تک جاری رہی۔ یعنی تین سال تک رحمتہ للعالمین اور آپ کے خاندان کو اور آپ کے اصحاب کو شعب ابی طالب کی گھاٹی میں محصور رکھ کر بنیادی حقوق اور ضروری سہولتوں (fundamental and basic rights) سے محروم رکھا گیا، اور سخت بھوک، پیاس اور تنگ حالی کی شدت میں زندگی گزارنے پر مجبور کیا گیا۔ مگر اس مشکل اور کٹھن دور میں بھی رسول خدا ہمیشہ مثبت روش پر قائم رہے، یعنی صابرانہ عمل پر۔ اس دعوتی سفر میں پیش آنے والی مشکلات و
‹ Previous page Next page › Contents of October 2021 All issues