30 دسمبر 1985
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۲۱، صفحہ ۴۷
مصائب، آپ کے عزم میں کبھی رکاوٹ نہ بنیں اور نہ ہی آپ کو پیغمبرانہ مشن سے ہٹا سکیں ۔ اس کی کئی اہم وجوہات میں سے ایک اہم وجہ پیغمبرِ اسلام کا ہمیشہ مثبت سوچ کے ساتھ رہنا تھا۔ اسی طرح ہجرت کا موقع آپ کی زندگی کا مشکل ترین وقت تھا۔ اس وقت قریش نے آپ کو جان سے مارنا چاہا تھا اور آپ کی مخبری پر سو اونٹ کا انعام مقرر کیا تھا۔ اس مشکل گھڑی میں بھی آپ کی فکر مثبت دائرے میں تھی، اور آپ ہر لمحہ پرامید(hopeful)رہے۔ ہجرت مدینہ کے موقع پر سب سے کٹھن لمحہ وہ ہے جب کہ آپ حضرت ابو بكر رضى اللہ عنہ کے ساتھ غار ثور میں پناہ لیے ہوئے تھے، اور قریش کے لوگ جو آپ کو قتل کرنے کے لیے آپ کی تلاش میں سرگرداں تھے، ننگی تلوار لیے ہوئے غار کے دہانے تک پہنچ گئے۔ اس موقع پر حضرت ابو بکر صدیق نے جب ان کے قدموں کو دیکھا تو ان کو تشویش ہوئی۔ انھوں نے اللہ کے رسول کو بتایا کہ قریش مکہ غار کے منہ تک پہنچ گئے ہیں۔ اس مشکل ترین اور اعصاب کو شکست سے دوچار کرنے والے لمحے پر بھی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پرامید اور حوصلہ مند رہے ۔ آپ نے حضرت ابو بکر صدیق سے فرمایا: مَا ظَنُّكَ بِاثْنَيْنِ اَللّٰه ثَالِثُهُمَا (صحیح البخاری، حدیث نمبر 4663؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر (2381) ۔ یعنی اے ابو بکر ان دو کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے جن کا تیسرا اللہ ہو۔ دوسرے الفاظ میں، جب اللہ ہمارے ساتھ ہو تو خوف و حزن کی کیا بات ! قرآن حکیم نے اس امید بھرے جملے کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے: لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللَّهَ مَعَنَا (9:40) یعنی غم نہ کرو، اللہ ہمارے ساتھ ہے۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نہ صرف خود مثبت رہتے تھے، بلکہ دوسروں کو بھی امید دلاتے تھے۔ جب آپ غار ثور سے نکل کر مدینہ جا رہے تھے تو آپ کی ملاقات دو اشخاص سے ہوئی، وہ دونوں آپس میں بھائی تھے۔ آپ نے ان دونوں سے نام پوچھا تو انھوں نے جواب دیا کہ ہمارے قبیلے والے ہم دونوں کو ایک ہی نام سے پکارتے ہیں: اَلْمُهَانَانِ (دو بے عزت آدمی) ۔ آپ نے فرمایا: نہیں، تم دونوں با عزت آدمی ہو (اَلْمُكَرَّمَانِ ) ۔ مسند احمد، حدیث نمبر : 16691 (بحوالہ مولانا زندگی میں بھی عزم و یقین کا سفر وہی لوگ کر پاتے ہیں جو مکمل طور پر مثبت (optimistic)
‹ Previous page Next page › Contents of October 2021 All issues