30 دسمبر 1985
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۲۱، صفحہ ۵۰
معاملے کو سمجھنا اور فریق ثانی کی رعایت کرتے ہوئے مسئلے کو حکیمانہ طور پر حل کرنا۔ اس کے بعد مولانا عصر حاضر کے تقاضوں سے باخبر کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ اب ہم دور جدید کے مواقع سے کیسے اور کیوں کر فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ مولانا کے مطابق ، اس طریق کار کو مثبت سٹیٹس کو ازم (positive statusquoism) کہا جا سکتا ہے۔ مثبت سٹیٹس کو ازم یہ ہے کہ آدمی وقت کے نظام سے ٹکراؤ نہ کرے، بلکہ وہ یہ کرے کہ وقت کے نظام میں موجودہ مواقع کو دریافت کر کے اُسے استعمال کرے۔
مولانا پر اللہ کا خصوصی کرم یہ تھا کہ مولانا مشکل ترین فکری مرحلوں اور عملی زندگی کی پیچیدگیوں میں بھی مثبت سوچ پر قائم رہتے تھے، مثبت واقعہ رونما ہونے کی امید رکھتے تھے۔ اس پر بہت سی مثالیں مولانا کی زندگی سے عیاں ہوتی ہیں ، مگر یہ مضمون اس کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ بلکہ مولانا کی زندگی کی آخری اور یونیک (unique) دریافت بھی مثبت خیال و فکر تھی۔ امام و داعی اسلام مولانا وحید الدین خاں اپنی آخری دریافت کا بیان یوں کرتے ہیں: اس دنیا میں سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ انسان دنیا کا سفر اس طرح کرے کہ اس کے دل میں کسی کے خلاف ذرہ برابر بھی کوئی منفی خیال نہ ہو۔ اس سے بڑی کوئی کامیابی نہیں کہ انسان دنیا سے اس طرح جائے کہ اس کا ذہن پوری طرح مثبت ہو۔ اس دنیا میں سب سے بڑی اچھائی مثبت فکر ہے اور سب سے بڑی برائی منفی سوچ ہے۔ یہی میری آخری دریافت ہے۔ مولانا وحید الدین خان کی وفات سے امت مسلمہ ایک فکری وعملی داعی وامام سے محروم ہو گئی ہے۔ آپ نے خلوص سے علمی اور حقیقی معنوں میں دین اسلام کی دعوت کو عام کرنے میں اپنی ساری زندگی صرف کی۔ اللہ تعالیٰ مولانا کو اپنے قرب خاص سے نوازے اور کروٹ کروٹ جنت الفردوس میں اعلیٰ درجات سے نوازے اور مسلمانوں کو حقیقی معنوں میں داعیانِ اسلام بننے کی توفیق عطا فرمائے، جو آج دور جدید کی اہم ضرورت ہے۔ یا اللہ ہمیں اپنی موت کی تیاری کرنے کی توفیق عطا فرما اور اس کے لیے زادراہ کے طور پر دعوت دین کے کام کو تمام عالم میں منظم انداز سے پہنچانے کی توفیق دے۔ اور مولانا کے اہل وعیال کو صبر کی توفیق دے اور انھیں الرسالہ مشن کو وسعت دینے کی صلاحیت سے مالامال فرما۔ (نجم الدین ہمدانی ، گلگت بلتستان)
‹ Previous page Next page › Contents of October 2021 All issues