30 دسمبر 1985
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۲۱، صفحہ ۴۹
ہاتھیوں کی فوج کے خلاف زبردست جانبازی دکھائی، اور بعد میں جنگ کرتے ہوئے قتل ہوئے۔ ان جنگوں نے ایران میں مذہبی جبر کا خاتمہ کیا، اور وہاں اسلام تیزی سے پھیلا۔ غزوہ احد (3ھ) میں آپ کے چچا حمزہ کو قتل کر کے ان کا کلیجہ (liver) نکال کر چبایا گیا، مگر آپ نے حضرت حمزہ کے قاتل اور کلیجہ چبانے والی عورت دونوں کو معاف کر دیا، یہاں تک کہ یہ دونوں مسلمان ہو گئے ۔ آپ کو اپنے محبوب نواسہ حسین کے قتل کی خبر دنیا میں دی گئی (مسند احمد، حدیث نمبر 26524 )۔ مگر آپ نے صبر و استقلال اور برداشت کی ایسی مثال قائم کی ، جو ہمیشہ بعد والوں کو رہنمائی اور ہدایت کا سامان بہم پہنچاتی رہے گی۔
مولاناا وحیدالدین خاں نے اپنی کتاب "مطالعہ سیرت" (صفحہ 8) میں پیغمبر اسلام کے مثبت ایکٹوزم کا خلاصہ ایک برطانی مستشرق اى۔ ای۔ کلیٹ کے الفاظ میں اس طرح بیان کیا ہے— پیغمبر اسلام نے دشواریوں کا مقابلہ اس عزم کے ساتھ کیا کہ وہ ناکامی سے کامیابی کو نچوڑیں : He faced adversity with the determination to wring success out of failure. اگر محفوظ تاریخ (recorded history) کو کھنگالنا شروع کریں تو معلوم ہوگا کہ یہاں سب سے زیادہ تکلیفیں اور مشکلات پیغمبر اسلام کو پیش آئیں ۔ آپ کو بہت ستایا گیا اور ہر طرح سے آپ کو نا کام بنانے کی کوششیں کی گئیں مگر آپ کبھی مایوس نہیں ہوئے اور بلند ہمتی سے اپنے سفر کو کامیابی کے نقطہ عروج (culmination) تک پہنچایا۔
مولانانے بھی ساری زندگی سیرت رسول کو اپنے سامنے رکھ کر زندگی گزاری۔ آپ کی تمام تحریریں اس کی گواہی دیتی ہیں۔ مولانا سنت حدیبیہ کو ایک غیر معمولی اور ناگزیر مثال کے طور پر بیان کرتے رہے، جس سنت حدیبیہ کی عملی روح کو امت تقریباً بھول چکی تھی۔ مولانا نے اس کوری ڈسکور کیا اور موجودہ زمانے میں اس معاہدہ کے عملی انطباق کی طرف امت کی رہنمائی کی۔
مولان خود اس پر یوں رقم طراز ہیں : حدیبیہ کے اس واقعہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک خاص سنت معلوم ہوتی ہے، اور وہ ہے— حالات سے غیر ضروری طور پر ٹکراؤ نہ کرنا۔ کسی معاملے کو عزت و وقار کا سوال نہ بنا کر اس کو سادہ حقیقت کے طور پر دیکھنا۔ جذبات سے اوپر اٹھ کر
‹ Previous page Next page › Contents of October 2021 All issues