Al-Risala · February 2021 · page 19

قرآن کی اشاعت

الرسالہ، فروری ۲۰۲۱، صفحہ ۱۹

translation) تیار کرے، اور اس کو اچھی طباعت کے ساتھ لوگوں تک پہنچائے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی آخری عمر میں حجۃ الوداع کے موقع پر اپنی آخری تقریر فرمائی۔ اس میں آپ نے ایک بڑے مجمع کو خطاب کرتے ہوئے کہا : کیا میں نے تم لوگوں کو اللہ کا پیغام پہنچادیا۔ لوگوں نے بلند آواز سے کہا کہ ہاں ہم گواہ ہیں کہ آپ نے اللہ کا پیغام پہنچا دیا۔ اس کے بعد آپ نے آسمان کی طرف انگلی اٹھا کر کہا: اے اللہ تو گواہ رہ کہ میں نے لوگوں کو پہنچادیا (اَلَا هَلْ بَلَّغْتُ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: اَللّٰهُمَّ اشْهَد) صحیح مسلم، حدیث نمبر 1679۔

قرآن کی ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے: وَأُوْحِيَ إِلَيَّ هَذَا الْقُرْآنُ لِأُنْذِرَكُمْ بِهِ وَمَنْ بَلَغَ (6:19)۔ یعنی اور مجھ پر یہ قرآن اترا ہے، تاکہ میں تم کو اس سے آگاہ کروں، اور وہ بھی (آگاہ کریں) جن کو یہ قرآن پہنچے۔ اس ریفرنس سے معلوم ہوا کہ امت کی ذمے داری خدائی پیغام کو انسانوں تک پہنچانا ہے، اور برابر اس مشن میں لگے رہنا ہے۔ امت کی ذمے داری یہ نہیں ہے کہ وہ تمام لوگوں کو کلمہ پڑھوائے۔ پہنچانے کے بعد ذمے داری ان لوگوں کی ہوجاتی ہے، جن کو اللہ کا پیغام پہنچا ہے (يس، 36:7)۔ پہنچانے کے بعد امت کی ذمے داری نارمل حالات کو برقرار رکھنا ہے، نہ کہ اس کو لوگوں کے دلوں میں اتارنا (القصص، 28:56)۔

یہ امت کی مزید ذمے داری ہے کہ وہ اپنے اور مدعو کے درمیان سننے اور سنانے کے ماحول کو برقرار رکھیں (الانعام، 6:108)۔ اس معاملے میں امت کو شدت سے یہ اہتمام کرنا چاہیے کہ ان کے اور دوسروں کے درمیان مدعو فرینڈلی (madu-friendly) ماحول برقرار رہے۔ امت یہ کام مطلوب درجے میں اس وقت کر سکتی ہے، جب کہ وہ مدعو سے نفرت مکمل طور پر چھوڑ دے، اللہ کے پیغام کو قابل فہم زبان میں مدعو تک پہنچائے۔ مدعو فرینڈلی ہیبیویئر (madu-friendly behaviour) کو قائم رکھنا اتنا ہی ضروری ہے، جتنا کہ پیغام کو پہنچانا۔ اس معاملے میں فقہ کا یہ مسلمہ اصول اپلائی ہوتا ہے : مَالَايَتِمُّ الْوَاجِبُ دُونَهُ فَهُوَ وَاجِب (الاحکام فی اصول الاحکام للآمدی، جلد 1، صفحہ 125)۔ یعنی جس کے بغیر کوئی واجب چیز پوری نہ ہو، وہ واجب ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2021 All issues

Printed page