Al-Risala · February 2021 · page 18

قرآن کی اشاعت

الرسالہ، فروری ۲۰۲۱، صفحہ ۱۸

خوانوں پر عملاً قابض ہو گئے۔ اس کے نتیجے میں مغربی قوموں اور مسلمانوں کے درمیان ایک نئی کروسیڈس (Crusades) وجود میں آگئی۔ تاریخ میں اس کو کولونیل ازم (colonialism) کا نام دیا گیا ہے۔ اس ’’کروسیڈس‘‘ میں مغربی قوموں کو فتح حاصل ہوئی۔ انھوں نے ایشیا اور افریقہ، حتی کہ یورپ کی مسلم سلطنتوں کو زیر کر لیا۔ مثلاً عثمانی ایمپائر، مغل ایمپائر، وغیرہ۔ موجودہ زمانے کے مسلمان اس سیاسی محرومی کو برداشت نہ کر سکے، اور تقریباً تمام مسلمان مغرب کے خلاف نفرت یا تشدد میں مبتلا ہو گئے، جس کو ہم نے عمومی ویسٹوفوبیا کا نام دیا ہے۔

اس موقع پر مسلم رہنماؤں پر فرض کے درجے میں ضروری تھا کہ وہ مغربی تہذیب اور مغرب کے سیاسی غلبے کو الگ کر کے دیکھیں۔ مگر انھوں نے انتہائی بے خبری کی بنا پر دونوں کو ایک سمجھ لیا۔ مغربی تہذیب (western civilization) حدیث کی پیشین گوئی (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3062؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر (111) کے مطابق، اسلام کے لیے تائیدی تہذیب (supportive civilization) کی حیثیت رکھتی تھی۔ مگر مسلم رہنماؤں نے مغربی تہذیب کو مغربی استعمار (western colonialism) کے ہم معنی سمجھ لیا۔

قرآن کی اشاعت

اس درمیان اللہ نے اپنے کچھ بندوں کو توفیق دی کہ وہ قرآن کا ترجمہ ہر زبان میں تیار کریں۔ ایسا ترجمہ جو لوگوں کے لیے قابل فہم زبان (understandable language) میں ہو، اور ان تراجم کا مطبوعہ شکل (printed format) میں اور ڈیجیٹل شکل (digital format) میں ایڈیشن تیار کر کے ہر قوم میں منظم طور پر پہنچانے کا عمل شروع کیا جائے۔ ہمارے ادارے کے ذریعے اللہ کے فضل سے قرآن کے ڈسٹری بیوشن کا کام برابر کیا جاتا ہے۔ تقریباً تمام مہجر زبانوں میں قرآن کا ترجمہ شائع ہو چکا ہے، اور دنیا کے مختلف حصوں میں برابر اس کے ڈسٹری بیوشن کا کام جاری ہے۔ یہ ایک ایسا کام ہے، جو میرے مطالعے کے مطابق، امت مسلمہ کا نمبر ایک کام ہے۔ امت مسلمہ کی ذمے داری ہے کہ وہ دنیا کی تمام زبانوں میں قابل فہم ترجمہ (understandable

‹ Previous page Next page › Contents of February 2021 All issues

Printed page