Al-Risala · February 2021 · page 21

قرآن اور وضو

الرسالہ، فروری ۲۰۲۱، صفحہ ۲۱

دوسرے کے ساتھ پڑھے گئے، تو یہ گویا خاموش اعلان تھا کہ یہ انسانی کلام ہے، اور وہ خدائی کلام۔ انجیل کی قرأت میں ساری کوشش کے باوجود وہ عظمت پیدا نہ ہوسکی۔ اس کے برعکس، قرآن حیرت انگیز طور پر ایک عظیم کلام کی مانند ہال کے اندر گونج رہا تھا۔ اس کی مجرد ساعت ہی یہ بتانے کے لیے کافی تھی کہ یہ ایک بلند تر خدائی کلام ہے، نہ کہ کوئی انسانی کلام۔

کانفرنس کی کارروائی ختم ہونے کے بعد تمام لوگ ایک بڑے ہال میں چائے پینے کے لیے جمع ہوئے۔ اس وقت کانفرنس کے آخری پروگرام کا اثر ابھی تمام لوگوں کے ذہنوں پر موجود تھا، جب کہ انجیل کی آواز پر قرآن کی آواز چھا گئی تھی، جیسے قرآن نے اس کو نگل لیا ہو۔ اس وقت میں جس میز پر بیٹھا تھا، اتفاق سے اس کی دوسری جانب ایک نوجوان پادری تھے، جو ویٹیگن کے دوسرے وفد کے ساتھ آئے تھے۔ میں نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ قرآن کو خدا کی کتاب مانتے ہیں، قرأت کے تاثر کے تحت (اس وقت) ان کی زبان سے بے ساختہ نکلا، ہاں۔ (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو راقم الحروف کا سفرنامہ غیر ملکی اسفار، جلد اول، صفحات 18-17)۔

قرآن اور وضو

حدیث کی کتابوں میں ایک واقعہ اس طرح آیا ہے: عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیرِینَ؛ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، كَانَ فِي قَوْمٍ وَهُمْ يَقْرَؤُونَ الْقُرْآنَ. فَذَهَبَ لِحَاجَتِهِ، ثُمَّ رَجَعَ وَهُوَ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ. فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ. أَتَقْرَأُ وَلَسْتَ عَلَى وُضُوءٍ؟ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: مَنْ أَفْتَاكَ بِهذا؟ أَمُسَيْلِمَةٌ؟ (موطا امام مالک، اثر نمبر 684)۔ محمد بن سیرین سے روایت ہے، عمر بن الخطاب لوگوں کی ایک جماعت کے ساتھ تھے۔ وہ لوگ قرآن پڑھ رہے تھے۔ عمر اپنی حاجت کے لیے اٹھے۔ پھر (قضائے حاجت کے بعد) واپس آئے اور قرآن پڑھنے لگے۔ تو ایک آدمی نے کہا : اے امیر المومنین، آپ (قرآن) پڑھتے ہیں، جب کہ آپ وضو سے نہیں ہیں۔ عمر نے ان سے کہا : کس نے تم کو یہ فتویٰ دیا ہے؟ کیا مسیلمہ (کذاب) نے؟

اس روایت سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ مسئلہ بالکل بے بنیاد ہے کہ قرآن کو چھونے کے لیے

‹ Previous page Next page › Contents of February 2021 All issues

Printed page