Al-Risala · February 2021 · page 22

قرآن اور وضو

الرسالہ، فروری ۲۰۲۱، صفحہ ۲۲

باوضو ہونا ضروری ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن کو چھونے کے لیے کوئی شرط نہیں۔ کیوں کہ قرآن سب کے لیے ہے۔ ہدایت پائے ہوئے لوگوں کے لیے بھی، اور ہدایت کے طالب علموں کے لیے بھی۔ قرآن کے مطالعے کے لیے وضو کی شرط لگانا، ایک بے بنیاد شرط ہے۔ قرآن ہر حال میں پڑھا جاسکتا ہے، خواہ آدمی باوضو ہو، یا بے وضو۔ جس طرح حافظے سے قرآن کو پڑھنے کے لیے وضو کی شرط نہیں ہے، اسی طرح مصحف کو پڑھنے کے لیے بھی وضو کی شرط نہیں ہے۔ حضرت عمر فاروق کا یہ عمل اس معاملے میں ایک روشن حجت کی حیثیت رکھتا ہے۔

مولانا امین احسن اصلاحی نے تدبر قرآن میں سورہ الواقعہ (56) کی آیت 79 کے تحت درست طور پر لکھا ہے کہ جن فقہا نے قرآن کی زبانی تلاوت یا اس کو ہاتھ لگانے تک کے لیے بھی طہارت کی وہ شرطیں عائد کی ہیں جو نماز کے لیے ضروری ہیں ان کے اقوال غلو پر مبنی ہیں۔ قرآن اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے اس وجہ سے وہ ہر پہلو سے لائق تکریم ہے، لیکن وہ ہمارے لیے ہر قدم پر حق و باطل اور خیر و شر کے جاننے کا ذریعہ اخذ و استنباط کا حوالہ اور استدلال کا مرکز بھی ہے۔ اگر اس کو ہاتھ لگانے یا اس کی کسی سورۃ یا آیت کی تلاوت کرنے یا حوالہ دینے کے لیے بھی آدمی کا طاہر و مطہر اور باوضو ہونا ضروری قرار پا جائے تو یہ ایک ایسی تکلیف مالا یطاق ہوگی جو دین فطرت کے مزاج کے خلاف ہے۔ اس طرح کی غیر فطری پابندیاں عائد کرنے سے قرآن کی تعظیم کا وہی تصور پیدا ہوگا جس کی تعبیر سیدنا مسیح علیہ السلام نے یوں فرمائی ہے کہ تمہیں چراغ دیا گیا کہ اس کو گھر میں بلند جگہ رکھو کہ سارے گھر میں روشنی پھیلے، لیکن تم نے اس کو پیمانے کے نیچے ڈھانپ کر رکھا ہے۔

قرآن کا یہ استعمال ذاتی مطالعے کے لیے بھی کیا جاسکتا ہے، اور تبلیغ و دعوت کے لیے بھی۔ دونوں صورتوں میں وضو کی کوئی شرط نہیں ہے۔ آدمی باوضو ہو، تب بھی درست ہے، اور آدمی بے وضو ہو، تب بھی درست ہے۔ اگر وضو کی شرط لگائی جائے تو غیر مسلموں کو بطور دعوت قرآن پڑھنے کے لیے دینا عملاً ناممکن ہو جائے گا۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2021 All issues

Printed page