Al-Risala · January 2021 · page 10

Suit 2025, Hotel Sentaur, New Delhi

الرسالہ، جنوری ۲۰۲۱، صفحہ ۱۰

دعوت کا کام دلوں کو جیت کر اور ذہنوں کو مطمئن کر کے ہوتا ہے، اس لیے داعی کے اندر دوسروں کے لیے محبت، اور خیر خواہی کی نفسیات پیدا ہوتی ہیں۔

پانی پت کی جنگ (1526) میں بابر کو ہندوستانی راجاؤں کے مقابلے میں فتح حاصل ہوئی۔ اس فتح کا راز بابر کا توپ خانہ تھا جس کو رومی ترک چلاتے تھے۔ بابر نے یہ توپ رومی ترکوں سے حاصل کی تھی۔ مگر عجیب بات ہے کہ بابر کی اولاد اس واقعہ کو بالکل بھول گئی۔ ان کی سمجھ میں کبھی یہ نہ آیا کہ توپ سازی کے فن کو ترقی دینے کے لیے باقاعدہ تجربہ گاہیں بنائی جائیں۔ مغلوں اور ہندوستانی نوابوں کی یہی پس ماندگی تھی، جس نے انگریزوں کو یہ موقع دیا کہ وہ اپنی برتر تکنیک کے ذریعے ہندوستان پر قابض ہو جائیں۔

انگریزوں نے فن جہاز رانی کو زبردست ترقی دی مگر ہندوستان کے مغل حکمراں جہاز رانی کے فن سے بالکل بے خبر رہے۔ رابرٹ کلائیو اور نواب سراج الدولہ کی فوجوں میں مقابلہ ہوا تو رابرٹ کلائیو کی فوج کو زبردست کامیابی ہوئی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ کلائیو کی اسپرنگ دار (flint locks) بندوقوں، رائفلوں اور توپوں کی بناوٹ اتنی اعلیٰ تھی کہ سراج الدولہ کی فتیلہ سوز (match locks) بندوقیں ان کا مقابلہ کرنے میں ناکام رہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلمان دور جدید میں سائنس کے علوم میں پیچھے ہو گئے اور یہی موجودہ زمانے میں ان کی ناکامی کا سب سے بڑا سبب ہے۔ ہندوستان میں مسلمانوں کی بہت سی جماعتیں ہیں مگر تقریباً سب کی سب رد عمل کی پیداوار ہیں۔ مسلمانوں کی ایک جماعت اور دوسری جماعت میں کوئی حقیقی فرق نہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ جو لیڈر اینٹی ہندو ٹون (anti-Hindu tone) میں بولتا ہے اس سے مسلمان خوش ہو جاتے ہیں اور جو پرو ہندوٹون (pro-Hindu tone) میں بولتا ہے اس سے ناخوش۔

قوموں کا عام مزاج یہ ہے کہ وہ اینٹی اسٹیبلشمنٹ (anti-establishment) آوازوں کو

‹ Previous page Next page › Contents of January 2021 All issues

Printed page