Suit 2025, Hotel Sentaur, New Delhi
الرسالہ، جنوری ۲۰۲۱، صفحہ ۱۱
پسند کرتی ہیں اور پرو اسٹیبلشمنٹ (pro-establishment) آوازوں کو عوام کے اندر پسندیدگی حاصل نہیں ہوتی۔
ہندوستان میں اس نفسیات پر مزید اضافہ یہ ہوا کہ مختلف اسباب سے مسلمانوں کے دلوں میں ہندوؤں کے خلاف منفی سوچ پیدا ہو گئی۔ اس کی وجہ سے کوئی ایسی تحریک ان کے درمیان مقبول نہیں ہوتی جو ہندوؤں سے ایڈ جسٹمنٹ (adjustment) کی باتیں کرتی ہو۔ یہی وجہ ہے کہ پچھلی تقریباً نصف صدی کی پر شور مسلم سیاست کے باوجود مسلمانوں کے حصہ میں احتجاج کے سوا اور کچھ نہ آیا۔ شیخ محمد سلیمان القائد (لیبیا) 23 اگست 1984 کو روانڈا کی راجدھانی کیگالی (Kigali) سے دہلی آئے تھے، اور یکم ستمبر 1984 کو واپس گئے۔ وہ اردو زبان بالکل نہیں جانتے۔ مگر عجیب بات ہے کہ انھوں نے میرے مشن کو جتنی گہرائی کے ساتھ سمجھا ہے، شاید کسی اور نے نہیں سمجھا۔ انھوں نے میری عربی کتابیں بار بار پڑھی ہیں۔ میرے ساتھ طرابلس میں تقریباً دو مہینہ رہے ہیں۔ اردو کے عربی ترجمے خود کروا کر پڑھے ہیں۔
دہلی میں انھوں نے مولانا حمید اللہ ندوی اندوری سے کہا اگر آپ نے شیخ وحید الدین کے مشن کو واقعہ پوری طرح سمجھا ہے تو آپ میرے بعد دوسرے شخص ہوں گے۔
شیخ محمد سلیمان القائد افریقہ میں زبردست تبلیغی کام کر رہے ہیں۔ مگر وہ اپنے کام کو ہمارے کام ہی کی شاخ سمجھتے ہیں۔ انھوں نے کہا— دہلی مرکز تفجیر الثورة الفکرية ہوگا، اور یہاں سے سارے عالم میں اسلامی دعوت پھیلے گی۔ کیا عجب کہ اللہ تعالیٰ ان کی اس نیک تمنا کو واقعہ بنادے۔ پاکستان کے ایک معروف عالم دین دہلی آئے اور ہمارے یہاں ٹھہرے۔ ایک ملاقات میں میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کی دریافت کیا ہے۔ انھوں نے کچھ دیر سوچنے کے بعد کہا: قرآن حکیم میں امت مسلمہ سے خطاب کا کلائمکس سورہ حدید ہے۔ سورہ حدید کی پہلی چھ آیات میں ذات
‹ Previous page Next page › Contents of January 2021 All issues