Al-Risala · February 2021 · page 42

انجام کی تلاش

الرسالہ، فروری ۲۰۲۱، صفحہ ۴۲

بقا نہیں۔ یہ زندگی جو ساری کائنات کا خلاصہ ہے، کیا وہ اتنی بے حقیقت ہے کہ اتنی آسانی سے اسے ختم کیا جا سکتا ہے۔ کیا انسانی زندگی کا منتہا (culmination) بس یہی ہے کہ وہ کائنات میں اپنے ننھے سے وطن میں چند دنوں کے لیے پیدا ہو، اور پھر فنا ہو کر رہ جائے۔ تمام انسانی علم اور ہماری کامرانیوں کے سارے واقعات ہمارے ساتھ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں، اور کائنات اسی طرح باقی رہ جائے گو یا انسانی نسل کی اس کے نزدیک کوئی حقیقت ہی نہیں تھی۔

اس سلسلے میں دوسری چیز جو صریح طور پر محسوس ہوتی ہے، وہ یہ کہ اگر زندگی بس اسی دنیا کی زندگی ہے تو یہ ایک ایسی زندگی ہے، جس میں ہماری امنگوں کی تکمیل نہیں ہو سکتی۔ ہر انسان لامحدود مدت تک زندہ رہنا چاہتا ہے، کسی کو بھی موت پسند نہیں، مگر اس دنیا میں ہر پیدا ہونے والا جانتا ہے کہ وہ ایسی زندگی سے محروم ہے۔ آدمی خوشی حاصل کرنا چاہتا ہے، ہر آدمی کی یہ خواہش ہے کہ وہ دکھ درد اور ہر قسم کی تکلیفوں سے محفوظ رہ کر زندگی گزارے۔ مگر حقیقی معنوں میں کیا کوئی شخص بھی ایسی زندگی حاصل کر سکتا ہے۔ ہر آدمی یہ چاہتا ہے کہ اس کو اپنے حوصلوں کی تکمیل کا آخری حد تک موقع ملے، وہ اپنی ساری تمناؤں کو عملی صورت میں دیکھنا چاہتا ہے۔ مگر اس محدود دنیا میں وہ ایسا نہیں کر سکتا۔ ہم جو کچھ چاہتے ہیں، یہ کائنات اس کے لیے بالکل محدود معلوم ہوتی ہے، وہ ہر چند قدم کے بعد ہمارا راستہ روک کر کھڑی ہو جاتی ہے، کائنات صرف ایک حد تک ہمارا ساتھ دیتی ہے، اس کے بعد ہم کو مایوس اور نا کام لوٹا دیتی ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا انسان غلطی سے ایک ایسی کائنات میں بھٹک کر آ گیا ہے، جو دراصل اس کے لیے نہیں بنائی گئی تھی، اور جو بظاہر زندگی اور اس کے متعلقات سے بالکل بے پروا ہے۔ کیا ہمارے تمام جذبات و خیالات اور ہماری تمام خواہشیں غیر حقیقی ہیں، جن کا واقعی دنیا سے کوئی تعلق نہیں۔ ہمارے تمام بہترین تخیلات کائنات کے راستے سے ہٹے ہوئے ہیں، اور ہمارے ذہنوں میں بالکل ال ٹپ طریقے سے پیدا ہو گئے ہیں۔ وہ تمام احساسات جن کو لے کر انسانی نسل پچھلے ہزاروں سال سے پیدا ہو رہی ہے، اور جن کو اپنے سینے میں لیے ہوئے وہ اس حال میں دفن ہو جاتی ہے کہ وہ انھیں حاصل نہ

‹ Previous page Next page › Contents of February 2021 All issues

Printed page