انجام کی تلاش
الرسالہ، فروری ۲۰۲۱، صفحہ ۴۱
سو سال سے بھی کم ہے۔ ایک طرف اس واقعے کو سامنے رکھیے، اور پھر اس حقیقت پر غور کیجیے کہ کائنات میں انسان سے بہتر کوئی وجود معلوم نہیں کیا جا سکا ہے۔ زمین و آسمان کی اربوں اور کھربوں سال کی گردش کے بعد جو بہترین مخلوق اس کائنات کے اندر وجود میں آئی ہے وہ انسان ہے۔ مگر یہ حیرت انگیز انسان جو ساری دنیا پر فوقیت رکھتا ہے، جو تمام موجودات میں سب سے افضل ہے، اس کی زندگی چند سال سے زیادہ نہیں۔ ہمارا وجود جن مادی اجزاء سے مرکب ہے، ان کی عمر تو اربوں اور کھربوں سال ہو، اور وہ ہمارے مرنے کے بعد بھی باقی رہ جائیں۔ مگر ان مادی اجزاء کی یکجائی سے جو اعلیٰ ترین وجود بنتا ہے، وہ صرف سو برس زندہ رہے ۔ جو کائنات کا حاصل (finest product) ہے، وہ کائنات سے بھی کم عمر رکھتا ہے۔ تاریخ کے طویل ترین دور میں بے شمار واقعات کیا صرف اس لیے جمع ہوئے تھے کہ ایک انسان کو چند دنوں کے لیے پیدا کر کے ختم کر دیا جائے۔ زمین پر آج جتنے انسان پائے جاتے ہیں، اگر ان میں کا ہر آدمی چھ فٹ لمبا، ڈھائی فٹ چوڑا اور ایک فٹ موٹا ہو تو اس پوری آبادی کو بہ آسانی ایک ایسے صندوق میں بند کیا جاسکتا ہے، جو طول و عرض اور بلندی میں ایک میل ہو۔ بات کچھ عجیب سی معلوم ہوتی ہے، مگر حقیقت یہی ہے۔ پھر اگر اس صندوق کو کسی سمندر کے کنارے لے جا کر ایک ہلکا سا دھکا دے دیں تو یہ صندوق پانی کی گہرائی میں جا گرے گا۔ صدیاں گزر جائیں گی، انسان کی نسل اپنے کفن میں لپٹی ہوئی ہمیشہ کے لیے پڑی رہے گی، دنیا کے ذہن سے یہ بھی محو ہو جائے گا کہ یہاں کبھی انسان کی قسم کی کوئی نسل آباد تھی۔ سمندر کی سطح پر اسی طرح بدستور طوفان آتے رہیں گے، سورج اسی طرح چمکتا رہے گا، کرۂ ارض اپنے محور پر بدستور چکر کرتا رہے گا، کائنات کی لامحدود وسعتوں میں پھیلی ہوئی بے شمار دنیا ئیں اتنے بڑے حادثے کو ایک معمولی واقعے سے زیادہ اہمیت نہ دیں گی۔ کئی صدیوں کے بعد ایک اونچا سا مٹی کا ڈھیر زبان حال سے بتائے گا کہ یہ انسانی نسل کی قبر ہے، جہاں وہ صدیوں پہلے ایک چھوٹے سے صندوق میں دفن کی گئی تھی۔ کیا انسان کی قیمت بس اسی قدر ہے، مادہ کو کوٹیے، پیٹیے، جلائیے، کچھ بھی کیجیے، وہ ختم نہیں ہوتا۔ وہ ہر حال میں اپنے وجود کو باقی رکھتا ہے۔ مگر انسان جو مادہ سے برتر مخلوق ہے، کیا اس کے لیے
‹ Previous page Next page › Contents of February 2021 All issues