انجام کی تلاش
الرسالہ، فروری ۲۰۲۱، صفحہ ۴۴
شخص جھوٹ اور فریب سے کام لیتا ہے، اور لوگوں کو اکسپلائٹ کرتا ہے۔ اس کے نتیجے میں اس کی زندگی نہایت عیش و عشرت کی زندگی بن جاتی ہے۔ اگر یہ دنیا اسی حال میں ختم ہو جائے تو کیا دونوں انسانوں کے اس مختلف انجام کی کوئی توجیہ کی جاسکتی ہے۔ ایک قوم دوسری قوم پر ڈاکہ ڈالتی ہے، اور اس کے وسائل و ذرائع پر قبضہ کر لیتی ہے۔ اس کے باوجود دنیا میں وہی قوم نیک نام رہتی ہے۔ کیوں کہ اس کے پاس نشر و اشاعت کے ذرائع ہیں، اور دبی ہوئی قوم کی حالت سے دنیا نا واقف رہتی ہے۔ کیوں کہ اس کی آہ کے لیے دنیا کے کانوں تک پہنچنے کا کوئی ذریعہ نہیں، کیا ان دونوں کی صحیح حیثیت کبھی ظاہر نہیں ہوگی۔
دو اشخاص یا دو قوموں میں ایک مسئلے پر اختلاف ہوتا ہے، اور زبردست کش کش تک نوبت پہنچ جاتی ہے۔ دونوں اپنے آپ کو برحق کہتے ہیں، اور ایک دوسرے کو انتہائی برا ثابت کرتے ہیں۔ مگر دنیا میں ان کے مقدمے کا فیصلہ نہیں ہوتا، کیا ایسی کوئی عدالت نہیں ہے، جو ان کے درمیان ٹھیک ٹھیک فیصلہ کر سکے۔ موجودہ دور کو ایٹمی دور کہا جاتا ہے۔ لیکن اگر اس کو دوسری کا دور کہا جائے تو زیادہ صحیح ہوگا۔ آج کا انسان صرف اپنی رائے اور خواہش پر چلنا چاہتا ہے، خواہ اس کی رائے اور خواہش کتنی ہی غلط کیوں نہ ہو۔ ہر شخص غلط کار ہے، مگر ہر شخص پوری قوت کے ساتھ آواز لگا کر اپنے کو صحیح ثابت کر رہا ہے۔ اخبارات میں لیڈروں اور حکمرانوں کے بیانات دیکھیے ۔ ہر ایک انتہائی جسارت کے ساتھ اپنے ظلم کو عین انصاف اور اپنی غلط کاریوں کو عین حق ثابت کرتا ہوا نظر آئے گا۔ کیا اس فریب کا پردہ کبھی چاک ہونے والا نہیں ہے۔
یہ صورت حال واضح طور پر ظاہر کر رہی ہے کہ یہ دنیا نا مکمل ہے۔ اس کی تکمیل کے لیے ایک ایسی دنیا چاہیے، جہاں ہر ایک کو اس کا صحیح مقام مل سکے۔ مادی دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ جہاں کوئی خلا ہے، اس کو پر کرنے کے اسباب موجود ہیں۔ مادی دنیا میں کہیں کوئی کمی نظر نہیں آتی۔ اس کے برعکس، انسانی دنیا میں ایک زبردست خلا ہے۔ جس قدرت نے مادی دنیا کو مکمل حالت میں ترقی دی ہے، کیا اس کے پاس انسانی دنیا کا خلا پر کرنے کا کوئی سامان نہیں۔ ہمارا احساس بعض افعال کو اچھا اور بعض کو
‹ Previous page Next page › Contents of February 2021 All issues