انجام کی تلاش
الرسالہ، فروری ۲۰۲۱، صفحہ ۴۵
بُرا سمجھتا ہے۔ ہم کچھ باتوں کے متعلق چاہتے ہیں کہ اس کو ہونا چاہیے، اور کچھ باتوں کے متعلق چاہتے ہیں کہ اس کو نہیں ہونا چاہیے۔ مگر ہماری فطری خواہش کے علی الرغم وہ سب کچھ یہاں ہو رہا ہے، جس کو انسانی فطرت برا سمجھتی ہے۔ انسان کے اندر اس طرح کے احساس کی موجودگی یہ معنی رکھتی ہے کہ کائنات کی تعمیر حق پر ہوئی ہے۔ یہاں باطل کے بجائے حق کو غالب آنا چاہیے۔ پھر کیا حق ظاہر نہیں ہوگا۔ جو چیز مادی دنیا میں پوری ہو رہی ہے، کیا وہ انسانی دنیا میں پوری نہیں ہوگی۔ یہی وہ سوالات ہیں، جن کے مجموعے کو میں نے او پر انسانیت کے انجام کی تلاش“ کہا ہے ۔ ایک شخص جب ان حالات کو دیکھتا ہے تو وہ سخت بے چینی میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ اس کے اندر نہایت شدت سے یہ احساس ابھرتا ہے کہ زندگی اگر یہی ہے، جو اس وقت نظر آ رہی ہے تو یہ کس قدر لغو زندگی ہے۔ وہ ایک طرف دیکھتا ہے کہ انسانی زندگی کے لیے کائنات میں اس قدر اہتمام کیا گیا ہے ۔ گویا سب کچھ صرف اسی کے لیے ہے، دوسری طرف انسان کی زندگی اس قدر مختصر اور اتنی ناکام ہے کہ سمجھ میں نہیں آتا کہ اس کو کس لیے پیدا کیا گیا ہے۔ اس سوال کے سلسلے میں آج لوگوں کا رجحان عام طور پر یہ ہے کہ اس قسم کے جھنجھٹ میں پڑنا فضول ہے۔ یہ سب فلسفیانہ سوالات ہیں، اور حقیقت پسندی یہ ہے کہ زندگی کا جو لمحہ تمہیں حاصل ہے اس کو پر مسرت بنانے کی کوشش کرو۔ آئندہ کیا ہوگا یا جو کچھ ہو رہا ہے، وہ صحیح ہے یا غلط ، اس کی فکر میں پڑنے کی ضرورت نہیں۔ اس جواب کے بارے میں کم از کم بات جو کہی جاسکتی ہے، وہ یہ کہ جو لوگ اس انداز میں سوچتے ہیں، انھوں نے ابھی انسانیت کے مقام کو نہیں پہچانا، وہ مجاز (illusion) کو حقیقت سمجھ لینا چاہتے ہیں ۔ واقعات انھیں ابدی زندگی کا راز معلوم کرنے کی دعوت دے رہے ہیں۔ مگر وہ چند روزہ زندگی پر قانع ہوگئے ہیں۔ انسانی نفسیات کا تقاضا ہے کہ اپنی امنگوں اور حوصلوں کی تکمیل کے لیے ایک وسیع تر دنیا کی تلاش کرے ، مگر نادان انسان روشنی کے بجائے اس کے سائے (shadow) کو کافی سمجھ رہے ہیں۔ کائنات پکار رہی ہے کہ یہ دنیا تمہارے لیے نامکمل ہے، دوسری مکمل دنیا کی کھوج لگاؤ۔ مگر ہمارا فیصلہ ہے کہ ہم اسی نامکمل دنیا میں اپنی زندگی کی عمارت تعمیر کریں گے، ہم کو مکمل
‹ Previous page Next page › Contents of February 2021 All issues