انسان کی نارسائی
الرسالہ، فروری ۲۰۲۱، صفحہ ۴۸
نہیں۔ ایسی صورت میں انسان کائنات کی حقیقت کے بارے میں جو خیال آرائی کرتا ہے، اس کو اندھیرے میں ٹٹولنے سے زیادہ اور کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ ہماری انتہائی لاعلمی فوراً ظاہر ہو جاتی ہے، جب ہم کائنات کی وسعت کا تصور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
اگر آپ اس بات کو سامنے رکھیں کہ سورج، سائنس داں کے اندازے کے مطابق، 4.603 بلین سال سے موجود ہے۔ اس زمین کی عمر جس پر ہم بستے ہیں، سائنس داں کے اندازے کے مطابق، 4.543 بلین سال ہے، اور زمین پر زندگی کے آثار نمایاں ہوئے تین کروڑ سال گزر چکے ہیں۔ مگر اس کے مقابلے میں زمین پر ذی عقل انسان کی تاریخ چند ہزار سال سے زیادہ نہیں تو یہ حقیقت عیاں ہو جاتی ہے کہ چند ہزار سال کا زمانہ جس میں انسان نے اپنی معلومات فراہم کی ہیں، اس طویل زمانے کا ایک بہت حقیر (tiny) جزء ہے، جو کہ دراصل کائنات کے اسرار کو معلوم کرنے کے لیے درکار ہے۔ کائنات کے بے حد طویل ماضی اور نا معلوم مستقبل کے درمیان انسانی زندگی محض ایک لمحے کی حیثیت رکھتی ہے۔ ہمارا وجود ایک نہایت حقیر قسم کا درمیانی وجود ہے، جس کے آگے اور پیچھے کی ہمیں کوئی خبر نہیں۔ ہماری عقل کو عاجزی کے ساتھ اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ اس کائنات کی وسعت لامودود ہے، اور اس کو سمجھنے کے لیے ہماری عقل اور ہمارے تجربے بالکل ناکافی ہیں۔ ہم اپنی محدود صلاحیتوں کے ذریعے کبھی بھی اس کو سمجھ نہیں سکتے۔ اب تک کی کوششوں کی ناکامی اس کو ثابت کرنے کے لیے بالکل کافی ہے۔
اس طرح ہمارا علم اور ہمارا مطالعہ ہم کو ایک ایسے مقام پر لا کر چھوڑ دیتے ہیں، جہاں ہمارے سامنے بہت سے سوالات ہیں۔ ایسے سوالات جو لازمی طور پر اپنا جواب چاہتے ہیں۔ جن کے بغیر انسانی زندگی بالکل لغو اور بے کار نظر آتی ہے۔ مگر جب ہم ان پر سوچنے بیٹھتے ہیں تو ہم کو معلوم ہوتا ہے کہ ہم اپنے ذہن سے ان کا جواب معلوم نہیں کر سکتے۔ ہم کو وہ آنکھ ہی نہیں ملی جس سے حقیقت کا مشاہدہ کیا جاسکے۔ اور وہ ذہن ہمیں حاصل نہیں ہے، جو براہ راست حقیقت کا ادراک کر سکے۔ [ یہ مضمون ’’حقیقت کی تلاش‘‘ کے نام سے شائع ہو چکا ہے، افادیت کے پیش نظر جزئی ترمیم کے بعد دوبارہ شائع کیا جا رہا ہے ]
‹ Previous page Next page › Contents of February 2021 All issues