انسان کی نارسائی
الرسالہ، فروری ۲۰۲۱، صفحہ ۴۷
ہے۔ انسان کی حالت ساری مخلوق سے بد تر نظر آتی ہے۔ ہماری بد قسمتی کی انتہا یہ ہے کہ اگر پٹرول کا کوئی نیا چشمہ دریافت ہو یا بھیڑ بکریوں کی نسل بڑھے تو اس سے انسان خوش ہوتا ہے۔ مگر ایک انسان دوسرے انسان کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں۔
انسان کی نارسائی
یہ سوالات ہم کو چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہیں۔ وہ اندر سے بھی اہل رہے ہیں، اور باہر سے بھی ہمیں گھیرے ہوئے ہیں، مگر ہمیں نہیں معلوم کہ ان کا جواب کیا ہے۔ یہ زندگی کی حقیقت معلوم کرنے کا سوال ہے، مگر کس قدر عجیب بات ہے کہ ہمیں زندگی تو مل گئی، مگر اس کی حقیقت ہمیں نہیں بتائی گئی ہے۔
اس حقیقت کی دریافت کے لیے جب ہم اپنی عقل اور اپنے تجربات کی طرف دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا صحیح اور قطعی جواب معلوم کرنا ہماری عقل اور ہمارے تجربے کے دائرے سے باہر ہے۔ اس سلسلے میں اب تک ہم نے جو رائیں قائم کی ہیں وہ اٹکل سے زیادہ حقیقت نہیں رکھتیں۔ جس طرح ہماری نظر کا دائرہ محدود ہے، اور ہم ایک مخصوص جسامت سے چھوٹی چیز کا مشاہدہ نہیں کر سکتے، اور ایک مخصوص فاصلے سے آگے کے اجسام کو نہیں دیکھ سکتے۔ اسی طرح کائنات کے متعلق ہمارا علم بھی ایک تنگ دائرے میں محدود ہے، جس کے آگے یا پیچھے کی ہمیں کوئی خبر نہیں۔ ہمارا علم نامکمل ہے، ہمارے حواس خمسہ (five senses) ناقص ہیں۔ ہم حقیقت کو نہیں دیکھ سکتے۔ میدہ اور کالک کو اگر ملایا جائے تو بھورے خاکستری رنگ کا ایک سفوف سا بن جاتا ہے، لیکن اس سفوف کا باریک کیڑا جو سفوف کے ذروں ہی کے برابر ہوتا ہے، اور صرف خوردبین کی مدد سے دیکھا جا سکتا ہے، وہ اس کو کچھ سیاہ اور کچھ سفید رنگ کی چٹان سمجھتا ہے، اس کے مشاہدے کے پیمانے میں خاکستری سفوف کوئی چیز نہیں۔
نوع انسانی کی زندگی اُس مدت کے مقابلے میں جب کہ یہ کرہ ارض وجود میں آیا، اس قدر مختصر ہے کہ کسی شمار میں نہیں آتی، اور خود کرہ ارض کائنات کے اتھاہ خلا میں ایک ذرے کے برابر بھی
‹ Previous page Next page › Contents of February 2021 All issues