طلاق کا مسئلہ
الرسالہ، جنوری ۲۰۲۲، صفحہ ۱۱
ماریں تو ان کو یہ بھی حق نہیں تھا کہ وہ خلیفہ کے حکم کو عام کریں، اور عام کرکے تین طلاق کو واقع کرنے کا طریقہ اختیار کریں۔ بعد کے علما کا یہی وہ اجتہادی طریقہ ہے، جس سے تین طلاق (triple talaq) کا موجودہ مسئلہ پیدا ہوا۔
معروف عالم ابن تیمیہ (728-661ھ) نے علما کی اس غلطی کو جانا اور انھوں نے اس کے خلاف فتویٰ دیا۔ انھوں نے کہا: إن طلقها ثلاثا في طهر واحد بكلمة واحدة أو كلمات... أنه محرم ولا يلزم منه إلا طلقة واحدة... فإن كل طلاق شرعه الله في القرآن في المدخول بها إنما هو الطلاق الرجعي؛ لم يشرع الله لأحد أن يطلق الثلاث جميعا (مجموع الفتاوی، 9/ 33-8)۔ یعنی اگر کسی نے ایک طہر میں تین طلاق دی، ایک ہی کلمہ میں یا ایک سے زیادہ کلمات میں... تو یہ حرام ہے، اور اس سے صرف ایک طلاق لازم آتی ہے... کیوں کہ ہر وہ طلاق جس کو اللہ نے قرآن میں مدخول بہا کے لیے مشروع کیا ہے، وہ طلاق رجعی ہے، اللہ نے کسی کے لیے ایک ساتھ تین طلاق کو مشروع نہیں کیا۔
مگر ابن تیمیہ کے بعد سلفی علما کے سوا دوسرے علما نے ابن تیمیہ کے اس فتویٰ کو عملاً تسلیم نہیں کیا۔ وہ بدستور اپنی سابق روش پر قائم رہے۔ اس معاملے میں بعد کے علما کی روش ایک غلط فہمی پر قائم تھی۔ انھوں نے غلط طور پر قدیم علما کی روش کو اجماع امت کا مسئلہ بنا لیا۔ حالاں کہ ہر گز وہ اجماع امت کا مسئلہ نہ تھا۔ یہ بلاشبہ ایک غلط فہمی کا معاملہ تھا۔ خلیفہ عمر فاروق کے بعد آنے والے علما نے یہ غلطی کی کہ انھوں نے حکم حاكم (executive order) کو امر شرعی کا درجہ دے دیا۔ مزید غلطی یہ ہوئی کہ غلط فہمی پر مبنی علما کے اس عمل کو اجماع امت کا درجہ دے دیا گیا۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ ایک غلطی پر دوسری غلطی کا اضافہ تھا۔ یعنی پہلے مرحلہ میں حکم حاكم کو امر شرعی کا درجہ دینا، اور پھر غلط فہمی پر مبنی علما کے اس عمل کو اجماع امت سمجھ لینا۔
اب سوال یہ ہے کہ اس معاملے میں صحیح موقف کیا ہے۔ صحیح موقف یہ ہے کہ اس معاملے میں ماضی کی غلطی کی تصحیح کی جائے، اور وہ یہ ہے کہ خلیفہ کے عمل کو حکم حاكم (executive order) کا درجہ دیا جائے، نہ کہ حکم شریعت کا درجہ۔ دوسری بات یہ ہے کہ بعد کے علما نے جب خلیفہ عمر کے عمل کی
‹ Previous page Next page › Contents of January 2022 All issues