طلاق کا مسئلہ
الرسالہ، جنوری ۲۰۲۲، صفحہ ۱۰
تین طلاق کا طریقہ بدعت کا طریقہ ہے جو بعد کے زمانے میں پیدا ہوا۔ ابتدائی دور کا مسلم معاشرہ اس مبتدعانہ طریقہ سے پاک تھا۔ تین طلاق کا مسئلہ کیسے پیدا ہوا۔ اس معاملے میں عبداللہ ابن عباس کی ایک روایت ہے، جس کے الفاظ یہ ہیں: كَانَ الطَّلَاقُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبِي بَكْرٍ، وَسَنَتَيْنِ مِنْ خِلَافَةِ عُمَرَ، طَلَاقُ الثَّلَاثِ وَاحِدَةً، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: إِنَّ النَّاسَ قَدِ اسْتَعْجَلُوا فِي أَمْرٍ قَدْ كَانَتْ لَهُمْ فِيهِ أَنَاةٌ، فَلَوْ أَمْضَيْنَاهُ عَلَيْهِمْ، فَأَمْضَاهُ عَلَيْهِمْ ( صحیح مسلم ، حدیث نمبر (1472) ۔ اس معاملے میں دوسری روایت میں یہ الفاظ ہیں: وَكَانَ عُمَرُ إِذَا أُتِيَ بِرَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا أَوْجَعَ ظَهْرَهُ ( سنن سعید بن منصور، حدیث نمبر 1073 )۔ یعنی عبداللہ ابن عباس کہتے ہیں کہ طلاق کا معاملہ رسول اللہ کے عہد میں اور ابوبکر کے عہد میں اور عمر کے ابتدائی دوسالوں میں یہ تھا کہ تین طلاق ایک تھی۔ تو عمر بن الخطاب نے کہا کہ لوگ اس معاملے میں جلد بازی سے کام لے رہے ہیں، جس میں ان کے لیے جلد بازی نہیں تھی، تو میں چاہتا ہوں کہ لوگوں کے لیے ایک حکم جاری کر دوں۔ چنانچہ انھوں نے حکم جاری کیا۔ دوسری روایت کے مطابق، اس حکم کا ایک جزء یہ بھی تھا کہ : عمر کے پاس جب ایسا آدمی لایا جاتا جس نے اپنی عورت کو ( بیک وقت ) تین طلاق دی ہو تو عمر اس کی پیٹھ پر کوڑے مارتے تھے۔
خلیفہ ثانی عمر فاروق نے ایک مجلس کی تین طلاقوں کو تین واقع کرنے کا جو عمل کیا ، اس کی حیثیت حکم حاكم (executive order) کی تھی۔ اس کی حیثیت شریعت میں کسی تبدیلی کی نہ تھی۔ یہ ایک امر واقعہ ہے کہ حکم حاکم ہمیشہ وقتی ہوتا ہے۔ وہ محدود زمانے کے لیے ہوتا ہے ، نہ کہ اللہ کے حکم کی طرح قیامت تک کے لیے ایک ابدی حکم ۔ لیکن بعد کے علما نے حاکم کے اجتہادی حکم کو عملاً امر شرعی کا درجہ دے دیا۔ وہ خلیفہ عمر کے اسی عمل پر فتوی دینے لگے ، جب کہ خلیفہ عمر کا ہرگز یہ منشا نہ تھا۔ بعد کے علما کو یہ حق نہ تھا کہ وہ خلیفہ کے حکم کو شرعی حکم کی طرح عام حکم کر دیں۔ اسی لیے عمر فاروق کے حکم کو عام کرنے کے باوجود ان کے لیے یہ ممکن نہ ہوا کہ وہ خطا کار کے پیٹھ پر کوڑے ماریں ، اور اس کے بعد تین طلاق کو شرعی طور پر واقع کرنے کا فتوی دیں۔ کیوں کہ کوڑ امارنے کا حق مسلمہ طور پر صرف حاکم کو ہے ، کسی اور کو ہر گز نہیں۔ جب علما کے لیے یہ ممکن نہ تھا کہ وہ خطا کار کو کوڑے
‹ Previous page Next page › Contents of January 2022 All issues