Al-Risala · May 2022 · page 9

خدا اُمید کا خزانہ

الرسالہ، مئی ۲۰۲۲، صفحہ ۹

خدا اُمید کا خزانہ

موجودہ دور میں مسلمان مختلف قسم کی پریشانیوں کی شکایت کرتے ہیں۔ قرآن وحدیث کا مطالعہ کیا جائے تو ان میں خدا سے امید رکھنے کے حوالے سے متعدد واقعات بیان کیے گئے ہیں، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان اگر مشکلات میں خدا پر اپنے اعتماد کو مضبوط رکھے تو اس کی پریشانیاں حل ہوسکتی ہیں۔ شرط صرف یہ ہے کہ وہ صبر اور تقویٰ کا طریقہ اختیار کرے اور مثبت سوچ کی بنیاد پر اپنی پلاننگ کرے، جیسا کہ ذیل کے واقعات سے ثابت ہوتا ہے۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام تقریباً ساڑھے چار ہزار سال پہلے عراق میں پیدا ہوئے اور 175 سال کی عمر پا کر اُن کی وفات ہوئی۔ اُن کا واقعہ ہے۔ جب وہ اپنی بیوی ہاجرہ اور اپنے بیٹے اسماعیل کو اس مقام پر چھوڑ کر جانے لگے جہاں آج مکہ آباد ہے تو ہاجرہ نے کہا کہ اے ابراہیم ! ہم کو اس صحرا میں چھوڑ کر آپ کہاں جا رہے ہیں، جہاں نہ کوئی انسان ہے اور نہ کوئی اور چیز؟ " پھر ہاجرہ نے ابراہیم سے پوچھا کہ "کیا اللہ نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے؟ " ابراہیم نے کہا کہ "ہاں"۔ ہاجرہ نے کہا " پھر تو اللہ ہم کو ضائع نہیں کرے گا" (اِذْن لا یُضَیِّعُنَا) صحیح البخاری، حدیث نمبر 3364۔ اس کے بعد ہی یہ ممکن ہوا کہ مکہ آباد ہو، اور وہ نسل ظہور میں آئے جس میں رسول اور اصحاب رسول پیدا ہوئے، جن کے ذریعہ دنیا میں اسلام کا انقلاب برپا ہوا۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام کا زمانہ تیرھویں صدی قبل مسیح کا زمانہ ہے۔ وہ قدیم مصر میں آئے۔ اس وقت وہاں فرعون (Pharaoh) کی حکومت تھی۔ بنی اسرائیل کو فرعون نے غلام بنا رکھا تھا۔ جب پیغمبر موسیٰ بنی اسرائیل کو لے کر مصر سے نکلے تو فرعون نے اپنی فوج کے ساتھ ان کا پیچھا کیا۔ حضرت موسیٰ اپنی قوم کے ساتھ ایسے مقام پر پہنچے جہاں سامنے بحر احمر تھا، اور پیچھے فرعون کا لشکر۔ یہ انتہائی خطرناک صورت حال تھی۔ اس نازک موقع پر بنی اسرائیل اور موسیٰ کی جو کیفیت تھی، اس کو قرآن نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے: فَلَمَّا تَرَاءَ الْجَمْعَانِ قَالَ أَصْحَابُ مُوسَى إِنَّا لَمُدْرَكُونَ - قَالَ كَلَّا إِنَّ مَعِيَ

‹ Previous page Next page › Contents of May 2022 All issues

Printed page