خدا اُمید کا خزانہ
الرسالہ، مئی ۲۰۲۲، صفحہ ۱۰
رَبِّي سَيَهْدِينِ (62-26)۔ یعنی، پھر جب دونوں جماعتیں آمنے سامنے ہوئیں تو موسیٰ کے ساتھیوں نے کہا کہ ہم تو پکڑے گئے۔ موسیٰ نے کہا کہ ہرگز نہیں، بے شک میرا رب میرے ساتھ ہے۔ وہ مجھ کو راہ بتائے گا۔ چنانچہ اللہ نے ان کی مدد کی، اور فرعون اپنے لشکر سمیت غرق ہو گیا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا واقعہ ہے۔ 622ء میں آپ نے مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کی۔ یہ ایک بے حد خطر ناک سفر تھا۔ اس سفر کے دوران آپ کو غارِ ثور میں چھپنا پڑا۔ آپ کے مخالفین جو آپ کی تلاش میں نکلے تھے، وہ تلوار لیے ہوئے غار کے منہ تک پہنچ گئے۔ اس وقت آپ کے واحد ساتھی ابو بکر صدیق تھے۔ انہوں نے یہ منظر دیکھا تو کہا کہ اے خدا کے رسول، وہ تو یہاں بھی پہنچ گئے۔ اس کے جواب میں آپ نے جو کہا، اس کو قرآن میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: لَا تَحْزَنْ إِنَّ ٱللَّہَ مَعَنَا (9:40)۔ یعنی غم نہ کرو، اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ اس واقعے کو حضرت ابو بکر صدیق نے اس طرح روایت کیا ہے۔ آپ نے کہا: ان دو کے بارے میں تمھارا کیا خیال ہے، جس کا تیسرا اللہ ہو (مَا ظَنُّکَ بِاثْنَيْنِ اللَّهُ ثَالِثُهُمَا) صحیح البخاری، حدیث نمبر 4663۔ اس ایمان و یقین کے سفر کے بعد ہی یہ ممکن ہوا کہ مدینہ کے ذریعہ ساری دنیا میں اسلام پھیلے— خدا پر یقین آدمی کی داخلی قوتوں کو متحرک کر کے ایک بے حوصلہ انسان کو تخلیقی انسان بنا دیتا ہے۔ (ڈاکٹر فریدہ خانم)
4 جولائی (1990) کو عید الاضحیٰ کی نماز میں نے تبلیغی جماعت کی مسجد میں پڑھی۔ وہاں انسانوں کا ہجوم تھا۔ وہاں کے ماحول کو دیکھ کر ایک بات ذہن میں آئی۔ دین کے دو پہلو ہیں۔ ایک معنی کے اعتبار سے، اور دوسرا شکل کے اعتبار سے۔ دین کے ان دونوں پہلوؤں کا تسلسل امت میں جاری رہے گا۔ یہاں تک کہ قیامت آ جائے۔ میرا احساس یہ ہے کہ تبلیغی تحریک، موجودہ زمانہ میں، دین کے شکلی پہلو کا تسلسل ہے، اور الرسالہ کا مشن دین کے معنوی پہلو کا تسلسل۔ تبلیغ کے لوگ اس تقسیم کو ہرگز نہیں مانیں گے۔ مگر میرے نزدیک حقیقت واقعہ یہی ہے (مولانا وحیدالدین خاں، ڈائری، 6 جولائی (1990)۔