آدم اور ابلیس کا سبق
الرسالہ، مئی ۲۰۲۲، صفحہ ۱۱
آدم اور ابلیس کا سبق
آدم و ابلیس کا قصہ قرآن میں کئی بار بیان کیا گیا ہے۔ مثلاً سورہ البقرہ، 38-2، 30، سورہ الاعراف، 25-7: 11، سورہ الحجر، 43-26: 15 وغیرہ۔ اس قصے کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ نے آدم کو پیدا کر کے فرشتہ اور ابلیس کو اسے سجدہ کرنے کے لیے کہا۔ فرشتوں نے سجدہ کیا، مگر ابلیس نے سجدہ کرنے سے انکار کر دیا۔ چنانچہ وہ نقصان میں رہا۔
ابلیس کا معاملہ یہ تھا کہ وہ ایک فرمانبردار مخلوق تھا، لیکن ایک موقع آیا جب کہ اس کے لیے پریکٹیکل وزڈم یہ تھا کہ وہ ایک نئی مخلوق، آدم کے سامنے خدا کے حکم کے مطابق جھک جائے۔ مگر وہ اپنے ماضی کی عظمت میں گم رہا کہ وہ نئی مخلوق کے مقابلے میں ایک برتر مخلوق ہے (الاعراف، 7: 12)۔ اس نے اپنے مفروضہ عظمت کی بنا پر سرکشی (stubbornness) کا طریقہ اختیار کیا، اور پریکٹیکل وزڈم کو قبول نہ کرسکا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ ہمیشہ کے لیے خدا کی نظر میں ناپسندیدہ قرار پایا۔ اس کے برعکس، فرشتوں نے پریکٹیکل وزڈم کو دو مرتبہ قبول کر لیا۔ ایک بار جب کہ انھوں نے یہ کہا کہ نئی مخلوق زمین میں فساد پیدا کرے گی۔ اللہ نے جب وضاحت کی تو انھوں نے اس کو قبول کر لیا۔ دوسری مرتبہ جب اللہ نے ان سے کہا کہ وہ آدم کے آگے سجدہ کریں۔ اس مرتبہ بھی انھوں نے خدا کی بات مان لی۔ دوسرے الفاظ میں انھوں نے بدلے ہوئے حالات کو ایکسیپٹ (accept) کیا، انھوں نے ابلیس کی مانند عذر (excuse) کا طریقہ اختیار کر کے خدا کے پیدا کیے ہوئے حالات سے ٹکراؤ کا راستہ نہیں چنا۔ یہ حقیقت میں اللہ کی جانب سے انسان کو سبق ہے کہ نئی صورت حال پیش آنے پر تمھارا رویہ ابلیس کی طرح کٹر پن (rigidity) اور تنگ نظری (narrow-mindedness) کا نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اپنے رویے میں لچک (flexibility) رکھو، صورت حال کو سمجھو، اور اسے قبول کرو۔ اگر تم ایسا نہیں کروگے تو تم ابلیس کی طرح نقصان میں رہوگے۔ دوسرے الفاظ میں، اس کا مطلب یہ ہے کہ تم یہ مت دیکھو کہ ماضی میں تم کیا تھے، بلکہ یہ دیکھو کہ وقت کا پریکٹیکل وزڈم کیا ہے، اور اس کو اختیار کرو۔