صبر کا فائدہ
الرسالہ، مئی ۲۰۲۲، صفحہ ۱۸
صبر کا فائدہ
قرآن کی ایک آیت یہ ہے: وَجَعَلْنَا بَعْضَكُمْ لِبَعْضٍ فِتْنَةً أَتَصْبِرُونَ (25:20)۔ یعنی، اور ہم نے تم کو ایک دوسرے کے لیے آزمائش بنایا ہے۔ کیا تم صبر کرتے ہو۔ دوسرے الفاظ میں، اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ ناپسندیدہ صورتِ حال پیش آنے پر اپنے جذبات پر کنٹرول رکھوتاکہ تمھارے لیے مواقع کو اوایل کرنا ممکن ہو ۔ جذبات سے مغلوب ہوکر عمل کرنے کا نتیجہ ہمیشہ ناکامی ہوتا ہے، اور جذبات کو قابو میں رکھ کر عمل کرنے کا نتیجہ ہمیشہ کامیابی ۔ ابن عباس نے اس آیت کی تفسیر اس طرح کی ہے: میں نے تم سب کو ایک دوسرے کے لیے آزمائش بنایا ہے تا کہ تم جو بھی ناپسندیدہ بات سنو، یا اختلاف دیکھو تو صبر کرو (لِتَصْبِرُوا عَلَى مَا تَسْمَعُونَ مِنْهُمْ وَتَرَوْنَ مِنْ خِلَافِهِمْ) ، اور درست راستہ اختیار کرو (تفسیر البغوی ، جلد 6، صفحہ 77) ۔
اصل یہ ہے کہ منصوبہ تخلیق کے مطابق، موجودہ دنیا میں ہر انسان کو کامل آزادی حاصل ہے۔ اس بنا پر ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ ہر انسان اپنے مصالح کے تحت اقدامات کرتا ہے۔ یہ اقدام مکمل معنوں میں دوسروں کے مطابق نہیں رہتا۔ بظاہر اس کا کچھ حصہ آپ خلاف ہوگا تو کچھ آپ کے موافق ہوگا۔ اس دنیا کے لیے فطرت کا قانون یہی ہے کہ یہاں کسی شخص یا گروہ کو جزئی مواقع ( partial opportunities) ملیں، کسی کو بھی یہاں کلی مواقع حاصل نہیں ہوتے۔ اس لیے دانش مندی یہ ہے کہ ناموافق پہلوؤں کو نظر انداز کیا جائے اور موافق پہلوؤں کو دریافت کرکے اُنھیں استعمال کیا جائے۔ یہ حقیقت ایک حدیثِ رسول سے مزید واضح ہوتی ہے: اِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيُؤَيِّدُ الْإِسْلَامَ بِرِجَالٍ مَا هُمْ مِنْ أَهْلِهِ (المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 14640) ۔ یعنی اللہ اسلام کی تائید ایسے لوگوں سے کرے گا، جو اہل اسلام میں سے نہ ہوں گے۔ اس حدیث میں بتایا گیا ہے کہ ایک انسان، جس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے، وہ اپنے ذاتی انٹرسٹ کے لیے اقدام کرتا ہے۔ اس اقدام کا مقصد اپنے ذاتی مفاد کو حاصل کرنا ہوتا ہے۔ لیکن اسی کے ساتھ ایسا ہوتا ہے کہ ایک نئی صورت حال پیدا ہوتی ہے۔ نئی صورت حال نئے مواقع کھولتی ہے۔ اگر اہلِ اسلام مذکورہ انسان کے مذہب اور فکر کو نظر انداز کریں تو وہ نئے مواقع کو استعمال کرکے اپنے دین اور دنیا دونوں کی تائید کا کام لے سکتے ہیں۔