Al-Risala · May 2022 · page 23

دورِ جدید کا ایک عطیہ

الرسالہ، مئی ۲۰۲۲، صفحہ ۲۳

تقدس کے اس تصور کی وجہ سے جنگ کی روک تھام نہیں ہو پاتی تھی۔

ریشنل ایج میں یہ ممکن ہو گیا کہ کسی بھی قسم کی پابندی کے بغیر چیزوں کی فری انکوائری کی جائےگا۔ ریشنل ایج کی وجہ سے یہ سوچ کمزور ہو گئی ہے کہ عقیدہ کی بنیاد پر کسی چیز کے حرام یا حلال ہونے کا فیصلہ کیا جائے۔ ریشنل ایج میں جو بات ہوئی، وہ یہی تھی کہ فری انکوائری کا حق انسان کو مل گیا۔ مثال کے طور پر قدیم دور میں مذہب کو فیصلہ کن حیثیت حاصل تھی، پھر مذہب کے نام پر بادشاہ اور مذہبی پیشوا کو فیصلہ کن حیثیت مل گئی۔ ان کی زبان سے نکلنے والا ہر لفظ قانون تھا۔ اس وجہ سے جو بھی اختلاف کرتا، اس کی سزا موت تھی۔ اس قسم کا محاورہ اسی دور کی ترجمانی کرتا ہے — جان کی امان پاؤں تو عرض کروں۔ دور جدید نے اس اجارہ داری (monopoly) کو ختم کر دیا ہے۔ اب ایسی کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ اب فری انکوائری ہر انسان کا بنیادی حق تسلیم کیا گیا ہے۔

دورِ جدید کا ایک عطیہ

یہ دور کیسے پیدا ہوا۔ کہا جاتا ہے کہ قدیم حجری دور (stone age) میں ایک بار دو آدمیوں کے درمیان کسی بات پر شدید اختلاف پیدا ہو گیا ۔ اختلاف یہاں تک بڑھا کہ دونوں کے درمیان لڑائی شروع ہو گئی۔ دونوں ایک دوسرے کو پتھر مارنے لگے۔ اسی سنگ باری کے درمیان ایک واقعہ پیش آیا۔ وہ یہ کہ ایک آدمی کا پتھر دوسرے آدمی کے پتھر سے ٹکرا گیا۔ اس وقت دونوں پتھروں کے درمیان چمک دکھائی دی۔ چمک دیکھ کر دونوں اپنی لڑائی بھول گئے، اور دونوں نے اپنے اپنے پتھروں کو لے کر سوچنا شروع کر دیا کہ کہاں سے روشنی آئی ۔ ابتدائی طور پر یہ دریافت ہوا کہ عام معنوں میں یہ روشنی نہیں تھی، بلکہ دونوں پتھروں کے درمیان سے نکلنے والی وقتی چنگاری تھی۔ اس سوچ کو بغیر کسی قید کے آگے بڑھنے کے لیے جس چیز کی ضرورت تھی، وہ فری انکوائری کا ماحول تھا۔ یہ فری انکوائری کا ماحول قدیم دور میں ممکن نہیں تھا، بلکہ اس کا آغاز جدید دور میں ہوا ہے۔ اس دور کو جمہوریت کا دور بھی کہا جاتا ہے۔ جمہوریت کا مطلب ہے دوسروں کو قبول کرنا : Democracy means acceptance of others. اختلاف کا مسئلہ دورِ جدید میں جن مثبت باتوں کا آغاز ہوا ہے، ان میں سے ایک یہ ہے کہ اب بذریعہ تلوار

‹ Previous page Next page › Contents of May 2022 All issues

Printed page