Al-Risala · May 2022 · page 22

فری انکوائری

الرسالہ، مئی ۲۰۲۲، صفحہ ۲۲

یہ لطیفہ بتاتا ہے کہ وہ کیا فرق ہے ، جو دورِ قدیم اور دورِ جدید کے درمیان ہے۔ قدیم زمانے میں علم نام تھا قیاسات کا ، مگر موجودہ زمانے میں علم نام ہے مطالعہ اور تجربہ کے ذریعے دریافت شدہ حقیقت کا ۔ یہی وجہ ہے کہ آج کا ایک تعلیم یافتہ نوجوان خلا (space) کے سفر کے معاملے کو جوتشی سے پوچھنے کے بجائے خلائی سائنس کے ماہرین سے پوچھنے پر زور دیتا ہے۔

جدید انسان کے سامنے اسلام کو پیش کرنے کے لیے اس فکری تبدیلی کا لحاظ کرنا بہت ضروری ہے۔ اسلام اگرچہ پوری طرح ایک سائنٹفک مذہب (scientific religion) ہے۔ مگر اس کو پیش کرنے والے ، مذکورہ دادی ماں (grandmother) کی طرح ، غیر سائنسی انداز میں پیش کرتے ہیں۔ اس وجہ سے ایسا ہوتا ہے کہ جو الزام حقیقتِ داعی کے سر آنا چاہیے تھا ، وہ غیر ضروری طور پر اسلام کے سر آجاتا ہے۔

فری انکوائری

اصل یہ ہے کہ قدیم زمانے میں انسان پہلے مذہب یا سماجی روایت کے ٹریپ میں پھنسا ہوا تھا۔ ہر چیز مذہب کی جانچ پڑتال (scrutiny) میں چلی جاتی تھی۔ جہاں ہر چیز کو جائز ناجائز ، حلال و حرام کے فریم ورک میں دیکھا جاتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ تھا کہ کوئی فکری ترقی (intellectual development) نہیں ہو پاتا تھا۔ مگر سائنس نے ہر چیز کو فری انکوائری کا سبجکٹ بنا دیا۔ مثلاً قدیم زمانے میں ایسا نہیں ہوتا تھا کہ کچھ اہل علم بیٹھیں ، جن میں کچھ لوگوں کے ہاتھوں میں شراب کی بوتل ہو ، مگر مجلس کے لوگ اس کو نظر انداز کر کے کسی موضوع پر ڈسکشن کریں۔ مذہب میں اس کا تصور نہیں کیا جا سکتا تھا۔ سائنسی دور نے یہ کیا کہ ذاتی چیزیں انسان کا اپنا فعل ہے ، اور حقائق (facts) ایک الگ چیز ہے۔ اس کو کوئی بھی ڈسکور کر سکتا ہے ، خواہ وہ ذاتی اعتبار سے کیسا بھی انسان ہو۔ مثلاً پہلے کوئی معیار (criterion) نہیں تھا ، جس کی بنیاد پر لڑائی کو بند کیا جائے۔ کیوں کہ قدیم زمانے میں لڑائیاں مذہب کے نام پر لڑی جاتی تھیں۔ اس وجہ سے وہ مقدس بنی ہوئی تھیں۔ اس تقدس کی وجہ سے مسلمانوں میں وہ جہاد بن گئی ، اور عیسائیت میں اس کو کروسیڈس کا نام دیا گیا۔ اور جو آدمی اس کے لیے لڑ کر مر جائے ، اس کو شہید کہتے تھے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2022 All issues

Printed page