ارتقا کے دلائل
الرسالہ، جنوری ۲۰۲۲، صفحہ ۱۴
ارتقا کے دلائل
موجودہ زمانہ کے علمائے حیاتیات عام طور پر نظریہ ارتقا کو تسلیم کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ارتقا محض ایک نظریہ نہیں ، وہ ایک مسلمہ سائنسی حقیقت ہے۔ مگر جہاں تک دلیل کا تعلق ہے یہ دعویٰ ابھی تک ثابت نہ کیا جاسکا۔ نظریہ ارتقا کے حق میں تین قسم کی دلیلیں دی جاتی ہیں : 1۔ ماں کے پیٹ میں انسان کا جنین مچھلی ، چھپکلی ، سور اور بندر کے جیسی صورتوں سے گزر کر انسان کی صورت تک پہنچتا ہے۔ ارتقا پسند علما کے نزدیک یہ مشاہدہ اس بات کا ثبوت ہے کہ انسان اپنی تاریخ کے پچھلے دور میں انھیں جانوروں جیسا تھا۔ ان کے نقطہ نظر کے مطابق ماں کا پیٹ نو مہینوں میں انسان کی اس طویل حیاتیاتی تاریخ کو دہراتا ہے جو پیٹ کے باہر اربوں سال کے اندر وقوع میں آئی تھی۔
2۔ جانوروں اور انسان کے ڈھانچہ میں ایک ارتقائی مشابہت پائی جاتی ہے۔ مچھلی سے لے کر انسان تک جانوروں کی جو مختلف قسمیں ہیں ، ان کی ہڈیوں کے ڈھانچہ کا تقابلی مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ ان میں بنیادی یکسانیت کے ساتھ ایک ارتقائی نسبت ہے۔ اوپر کی سطح کے جانور نچلی سطح کے جانور کی ارتقا یافتہ صورتیں معلوم ہوتے ہیں۔ حتیٰ کہ انسان تک پہنچ کر یہ عمل ارتقا اپنی کامل صورت اختیار کر لیتا ہے۔
3۔ چٹانوں کی تہوں میں قدیم جانداروں کی ہڈیاں متحجر حالت (fossilised state) میں پائی گئی ہیں۔ چٹانوں کا کیمیائی مطالعہ بتاتا ہے کہ ان کی تہیں ایک کے بعد ایک مختلف زمانوں میں بنی ہیں۔ اس طرح یہ چٹانی تہیں گویا کتاب فطرت کے اوراق ہیں جو ماضی بعید کی داستان ہم کو بتاتے ہیں۔ چٹانوں کی مختلف تہوں میں متحجر ہڈیوں کے مطالعہ سے دریافت ہوا ہے کہ زمین کے اوپر جانداروں کی جو قسمیں پائی جاتی ہیں ، وہ سب کی سب اول روز سے موجود نہ تھیں۔ بلکہ ان کے ظہور میں ایک ارتقائی ترتیب ہے۔ قدیم ترین تہوں میں مچھلی کی قسم کے جانوروں کی متحجر ہڈیاں ملتی ہیں ، پھر
‹ Previous page Next page › Contents of January 2022 All issues