Al-Risala · January 2022 · page 15

ارتقا کے دلائل

الرسالہ، جنوری ۲۰۲۲، صفحہ ۱۵

چھپکلی کی قسم کے جانور، پھر دودھ پلانے والے جانور، پھر بندر، اور آخر میں انسان۔ جواب یہ مشاہدات جن کے اوپر ارتقا کی استدلالی بنیاد قائم کی گئی ہے، وہ مشاہدات بجائے خود واقعہ ہو سکتے ہیں ۔ مگر خالص علمی اعتبار سے دیکھا جائے تو ان کا کوئی بھی تعلق ارتقا کے مفروضہ سے نہیں ہے۔ ان کے ذریعہ اس نظریہ کے حق میں دلیل قائم نہیں ہوتی۔

1۔ یہ بات بجائے خود ایک واقعہ ہے کہ انسان کے بچہ کا مشاہدہ جب ماں کے پیٹ میں کیا جاتا ہے تو ابتدائی ایام میں اس کے اور جانور کے بچہ میں بہت کم ظاہری فرق ہوتا ہے۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ مچھلی اور چوپائے کی شکلوں سے گزر کر انسان کی صورت اختیار کر رہا ہے۔ مگر صرف اس مشاہدہ سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ قدرت پانچ سو ملین سال کے عمل کو نو مہینوں میں دہراتی ہے۔ جس قدرت کو اس سے پہلے ایک انسان بنانے میں پانچ سو ملین سال لگ گئے، وہ اب صرف نو مہینوں میں کروڑوں انسان کس طرح بنا رہی ہے۔ اور اگر قدرت کے عمل کو مختصر کرنا ممکن ہے تو ایک عالم حیاتیات کے لیے یہ ممکن ہونا چاہیے کہ وہ ایک مچھلی کا انڈہ لے اور اس کو اپنی لیبوریٹری میں رکھ کر نو مہینے یا نو سال کے اندر اس کو انسان کی صورت میں تبدیل کر دے۔ جب کہ ہم جانتے ہیں کہ یہ بالکل ناممکن ہے۔

اس نظریہ کے بے بنیاد ہونے کی اس سے بھی زیادہ بڑی دلیل یہ ہے کہ فرد کی تمام خصوصیات اول روز ہی سے جین میں موجود ہوتی ہیں۔ بڑا ہو کر آدمی جن اوصاف کا حامل ہوتا ہے، وہ سب اس کے اولین ڈھانچہ میں مکمل طور پر موجود رہتا ہے۔ اس کا قد، اس کا رنگ، اس کا مزاج، اس کی ذہانت، سب کچھ اول دن ہی سے اس کے اندر پایا جاتا ہے۔ بالفاظ دیگر، انسان کا بچہ پہلے دن سے انسان کا بچہ ہوتا ہے، وہ کسی لمحہ بھی مچھلی یا چھپکلی کا بچہ نہیں ہوتا۔ ایسی حالت میں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ ماں کے پیٹ کے ابتدائی ہفتوں میں اور ہمارے مشاہدے کے پیمانہ میں وہ کس صورت کا دکھائی دے رہا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2022 All issues

Printed page