Al-Risala · May 2022 · page 31

حکمت کا طریقہ

الرسالہ، مئی ۲۰۲۲، صفحہ ۳۱

اس معاملے میں غلطی کا اعتراف کرنے کے بعد ڈاکٹر مرسی کو جو پہلا کام کرنا تھا، وہ یہ تھا کہ وہ اپنی غلطی کے انجام سے بچنے کی تدبیر کریں۔ جمہوری نظام میں اس طرح کی غلطی کرنے کے بعد صرف دوسرے کو الزام دینا کافی نہیں ہوتا، بلکہ یہ ضروری ہوتا ہے کہ غلطی کی نوعیت کو سمجھا جائے، اور جمہوری روایات، اور قانونی تقاضے کی روشنی میں اس کا حل دریافت کیا جائے۔

اب جب کہ یہ واقعہ ہو چکا ہے تو ڈاکٹر محمد مرسی کے حامیوں کو یہ کام انجام دینا چاہیے۔ دوبارہ ان کے لیے یہ کافی نہیں ہے کہ وہ فوجیوں کو برا بھلا کہیں ۔ اگر وہ ایسا کریں گے، تو وہ یہ دریافت نہ کر پائیں گے کہ غلطی کہاں ہوئی، اور جمہوری نظام یا قانونی نظام کے دائرے میں اس کا حل کیا ہے۔ خدا کی کنٹری میں انگلینڈ کے ایک صاحب اپنی کار سے سوئزر لینڈ گئے ۔ اُن کے اپنے ملک میں بائیں چلو (left-hand drive) کا ٹریفک رول تھا، مگر وہ اس دوسرے ملک میں بھی بائیں چلو کے اصول پر اپنی گاڑی دوڑا رہے تھے، جب کہ وہاں دائیں چلو (right-hand drive) کا اصول رائج تھا۔ مخالف سائڈ میں کار چلاتے دیکھ کر وہاں کی ٹریفک پولس نے ان کو روکا۔ کار کا نمبر دیکھ کر پولس میں سمجھ گیا کہ یہ آدمی کس ملک سے آ رہا ہے۔ اُس نے مذکورہ شخص سے کہا۔ جناب، آپ اس وقت سوئزرلینڈ میں ہیں، جہاں دائیں چلو کا اصول ہے، نہ کہ انگلینڈ میں جہاں بائیں چلو کا اصول ہے۔ یہی معاملہ زیادہ بڑے پیمانے پر خدا کے تخلیقی پلان کا ہے۔ خدا نے انسان کو پیدا کیا ہے۔ انسان پر لازم ہے کہ وہ اس دنیا میں خدا کے حکموں پر چلے۔ جو لوگ ایسا نہ کریں، وہ خدا کی دنیا میں خدا کے اصول کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ ایسے لوگ قیامت کے دن بطور سزا ابدی کوڑاخانے کے مستحق قرار پائیں گے۔ کائنات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ یہ پورے معنوں میں ایک با معنی کائنات ہے۔ ایسی ایک با معنی کائنات، بے معنی انجام پر ختم نہیں ہوسکتی۔ ضروری ہے کہ اس دنیا کا ایک تخلیقی منصوبہ ہو، اور اس تخلیقی منصوبے کے مطابق ، دنیا کا خالق اس کے بارے میں ایک منصفانہ فیصلہ کرے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2022 All issues

Printed page