Al-Risala · May 2022 · page 43

یک لحظہ غافل گشتم و صد سالہ را ہم دور شد

الرسالہ، مئی ۲۰۲۲، صفحہ ۴۳

ہے کہ ان کے روایتی عقیدے کی دیوار منہدم ہورہی ہیں۔ حتیٰ یہی وجہ ہے کہ ان کے یہاں رومی اور اقبال پسند کیے جاتے ہیں اور ٹھیک اسی قسم کی بات میں کہتا ہوں تو مجھ سے ناراض جاتے ہیں۔ "دورِ جدید میں مسلمان سب سے زیادہ پچھڑی ہوئی قوم ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر پٹرول ڈالر کی طاقت ظاہر نہ ہوئی ہوتی تو آج مسلمان ایک قسم کے بین الاقوامی اچھوت بن چکے ہوتے۔ اس کی سب سے زیادہ ذمہ داری لیڈروں پر ہے۔ 19 ویں صدی عیسوی میں جب مغربی اقوام نے مسلم قوتوں پر غلبہ حاصل کیا تو مسلمانوں نے اس اعتبار سے کچھ بھی نہ سوچا کہ آخر وہ کون سی طاقت ہے جس سے مسلح ہو کر مغرب کی قومیں دنیا پر چھا گئی ہیں۔ مسلم لیڈر نفرت اور منفی رد عمل کے سوا اس وقت کسی اور چیز کا ثبوت نہ دے سکے۔

اس زمانے میں ایسے شعرا اور خطبا پیدا ہوئے جن کی مقبولیت کا سب سے بڑا راز یہ تھا کہ وہ مغرب اور مغربی تہذیب کا مذاق اڑاتے ہیں۔ اسی میں ایک مثال اکبر الہ آبادی (1921-1846ء) کی ہے۔ ان کے اشعار کی کثیر تعداد ایسی ہے، جو مغرب سے نفرت اور استہزا پر مبنی ہے۔ حتیٰ کہ انہوں نے مغرب کی انتہائی مفید چیزوں کا بھی مذاق اڑایا۔ مثلاً ان کا ایک شعر ہے: حرف پڑھنا پڑا ہے ٹائپ کا پانی پینا پڑا ہے پائپ کا اسی طرح ان کا ایک شعر ہے:

بچوں کے کبھی قتل سے بد نام نہ ہوتا افسوس کہ فرعون کو کالج کی نہ سوجھی اسی قسم کی منفی باتیں جنھوں نے مسلمانوں کو جدید تعلیم سے دو سو سال دور کر دیا۔ وہ مغرب کی ہر چیز کو نفرت کی نظر سے دیکھتے رہے۔ یہاں تک کہ جاگے تو اس وقت جاگے جب کہ دنیا ان سے بہت آگے جا چکی تھی۔ ایک فارسی شاعر کے الفاظ میں میں ایک لمحہ کے لیے غافل ہوا اور راہ سے سو سال دور ہو گیا:

یک لحظہ غافل گشتم و صد سالہ را ہم دور شد

‹ Previous page Next page › Contents of May 2022 All issues

Printed page