Al-Risala · May 2022 · page 42

12 جنوری 1986

الرسالہ، مئی ۲۰۲۲، صفحہ ۴۲

لکھی ہوئی تمام کتابوں سے زیادہ عظیم ہے۔ اس طرح آخرت کی غیر فانی نعمتیں اس سے بہت زیادہ ہیں کہ کوئی فانی عمل اس کی قیمت دلا سکے۔

میری زبان سے تو جب بھی دعا نکلتی ہے یہی نکلتی ہے کہ خدایا میرے پاس کچھ بھی نہیں۔ میں اکثر یہ دعا کرتا ہوں کہ خدایا میرے نامۂ اعمال سے میرے تمام کاموں کو حذف کردے اور صرف اپنی رحمت کو اس میں لکھ دے۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کی رحمت کے سوا اور کوئی چیز نہیں جو آدمی کو نجات دینے والی ہو۔ 16 جنوری 1986ء مولانارومی کا شعر ہے:

دین حق را چار مذہب ساختند رخنہ در دین نبی انداختند (خدا کے سچے دین کو لوگوں نے چار دین بنادیا اور اس طرح پیغمبر کے دین میں رخنہ ڈال دیا) اسی طرح کے اشعار اقبال کے یہاں بھی کثرت سے پائے جاتے ہیں۔ مثلاً ان کا یہ شعر: حقیقت خرافات میں کھو گئی یہ امت روایات میں کھو گئی اسی طرح کی سخت باتوں کے باوجود مسلمان کے یہاں رومی اور اقبال بہت زیادہ مقبول ہیں۔ اس کے مقابلے میں راقم الحروف نے اپنی کتاب ’’تجدید دین‘‘ اور بعض دوسری تحریروں میں اس طرح کی باتیں کہیں تو مسلمان بے حد خفا ہوگئے۔

اس فرق کی وجہ کیا ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ رومی اور اقبال اس بات کو شعر کی زبان میں کہتے ہیں اور میں اس کو علمی تجزیہ کی زبان میں کہتا ہوں۔ شعر کے اسلوب میں کوئی بات ثابت نہیں ہوتی۔ شعر کے ردیف وقافیہ میں کوئی بات نہ فی الواقع غلط ثابت ہوتی ہے اور نہ صحیح۔ وہ تو صرف ردیف وقافیہ ہوتا ہے اور بس۔

اس کے برعکس، میرے تجزیاتی مضامین ان باتوں کو ثابت شدہ حقیقت بنا رہے ہیں۔ اس میں صحیح صحیح ہوجاتا ہے اور غلط غلط۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ ان کو پڑھ کر ناراض ہوجاتے ہیں۔ رومی اور اقبال کے اشعار کو گنگنانے سے ان کے عقیدے متزلزل نہیں ہوتے۔ جبکہ میرے مضامین پڑھ کر ان کو محسوس ہوتا

‹ Previous page Next page › Contents of May 2022 All issues

Printed page