بیماری معرفت کا ذریعہ
الرسالہ، مئی ۲۰۲۲، صفحہ ۴۷
بیماری معرفت کا ذریعہ
ہمارے مشن کے ایک ساتھی بیمار ہوگئے۔ جب ان سے گفتگو ہوئی تو انھوں نے کہا کہ بیماری سے مجھے بہت بڑا سبق ملا ہے۔ وہ یہ کہ بیماری سے پہلے مجھے کبھی کبھی یہ احساس ہوتا تھا کہ میں مشن میں پرسنل طور پر شامل (involve) ہوں تو مشن کا کام انجام پارہا ہے، یعنی میرے بغیر مشن نہیں چل سکتا۔ مگر بیماری نے میرے اوپر یہ واضح کیا کہ جو کچھ ہورہا ہے وہ خدا کی توفیق اور اس کی مدد سے ہورہا ہے، نہ کہ ہماری ذات سے، ہم تو صرف ہیومن فیس ہیں۔ یہ احساس اتنا شدید تھا کہ اس نے مجھے کٹ ٹو سائز کر دیا۔ میں نے یہ جان لیا کہ میرے کرنے سے نہیں بلکہ خدا کی مدد سے سارے کام چل رہے ہیں۔ یہ واقعہ میں نے سنا تو مجھے ایک حدیثِ رسول یاد آئی۔ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب ایک مومِن بندہ بیمار ہوتا ہے تو وہ اس کے آگے کے لیے نصیحت کا سامان ہوتا ہے (وَمَوْعِظَةٌ لَّهُ فِيمَا يَسْتَقْبِلُ) سنن ابوداؤد، حدیث نمبر 3089۔ ایک اور روایت میں ہے کہ جب آپ کسی مریض کی عیادت کے لیے جاتے تو یہ کہا کرتے تھے: لَا بَأْسَ طَهُورٌ إِنْ شَاءَ اللهُ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3616)۔ یعنی کوئی حرج نہیں، ان شاء اللہ یہ (روحانی) پاکی کا ذریعہ ہے۔
انسان کے اندر ایک خصوصی صفت پائی جاتی ہے جس کو حساسیت کہا جاتا ہے۔ حساسیت (sensitivity) خدا کی ایک عظیم نعمت ہے۔ اگر حساسیت نہ ہو تو آدمی کے اندر سے بُرائی کو بُرائی سمجھنے کا مزاج ختم ہو جائے گا۔ اگر آدمی صحت مند جسم کا مالک ہو تو وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر غرور و تکبر اور بے نیازی کی نفسیات میں جینے لگتا ہے۔ اس طرح وہ ایک بے حس انسان بن کر رہ جاتا ہے۔ اس کے برعکس، جب ایک مومن انسان بیماری میں مبتلا ہوتا ہے تو وہ اپنے عجز کو دریافت کرتا ہے۔ اُس کے اندر ماڈسٹی کا مزاج پیدا ہو جاتا ہے۔ بیماری اُس کو مادی چیزوں سے دور کر کے اللہ سے قریب کر دیتی ہے۔ اُس کے دل سے دردمندی کے ساتھ دعائیں نکلنے لگتی ہیں۔
بیماری بظاہر ایک ناپسندیدہ واقعہ ہے۔ لیکن اگر صحیح اسلامی ذہن ہو تو جسمانی بیماری آدمی کے لیے روحانی صحت کا ذریعہ بن جائے گی۔ (ڈاکٹر فریدہ خانم)