Al-Risala · September 2022 · page 4

شکر کا عمل

الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۲، صفحہ ۴

شکر کا عمل

قرآن کا آغاز بسم اللہ سے ہوتا ہے۔ بسم اللہ کے بعد سب سے پہلی آیت یہ ہے: اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ یعنی شکر ہے خدا وند عالم کے لیے۔ قرآن کی اس آیت سے شکر کی اہمیت معلوم ہوتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام کے تمام اعمال میں شکر ہی ایک ایسا عمل ہے، جس کو انسان اپنی نسبت سے اعلیٰ ترین صورت میں کر سکتا ہے۔ دوسرے تمام اعمال، مثلاً عبادت اور اخلاق اور معاملات کی ادائیگی میں مختلف اسباب سے کچھ نہ کچھ کمی رہ جاتی ہے۔ لیکن شکر کا تعلق دل اور دماغ سے ہے اور جس چیز کا تعلق دل اور دماغ سے ہو، اُس کے بارے میں یہ ممکن ہوتا ہے کہ آدمی اُس کو کامل ترین صورت میں ادا کر سکے ۔ یہاں وہ اپنے تمام جذبات اور اپنی ساری سوچ کو خدا کے سامنے پیش کر سکتا ہے۔ یہ خصوصیت صرف شکر کو حاصل ہے۔

شکر کیا ہے، شکر دراصل اعتراف کا دوسرا نام ہے۔ انسانی معاملات میں جس چیز کو اعتراف کہا جاتا ہے، اُسی کا نام خدائی معاملے میں شکر ہے۔ ہر آدمی کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ اپنے شعور کو اتنا زیادہ بیدار کرے کہ ہر ملی ہوئی چیز اِس کو کامل معنوں میں خدا کا عطیہ دکھائی دے۔ وہ کامل جذبہ اعتراف کے ساتھ یہ کہہ سکے کہ خدایا، تیرا شکر ہے۔ خدا کی نعمتوں اور رحمتوں کا کامل احساس کر کے یہ کہہ پڑنا کہ الحمد للہ رب العالمین، یہی شکر ہے اور یہ شکر بلاشبہ سب سے بڑی عبادت ہے۔

موجودہ دنیا میں وہ چیز بہت بڑے پیمانے پر موجود ہے جس کو لائف سپورٹ سسٹم کہا جاتا ہے۔ یہاں کی ہر چیز اس طرح بنائی گئی ہے کہ وہ کامل طور پر انسان کے لیے موافق اسباب کی حیثیت رکھتی ہے۔ ایسی حالت میں یہ ہونا چاہیے کہ انسان جب اس دنیا میں چلے پھرے اور اس کو استعمال کرے تو وہ شکر اور اعتراف کے جذبے سے سرشار ہو۔ موجودہ دنیا کی تمام قیمتی چیزیں انسان کو سرتا سر مفت میں ملی ہوئی ہیں، سچا شکر ہی ان چیزوں کی قیمت ہے۔ جو آدمی یہ قیمت ادا نہ کرے، اُس کی حیثیت اس دنیا میں غاصب کی ہے، اور غاصب کے لیے بلا شبہ سزا ہے، نہ کہ انعام۔ شکر کے احساس کے بغیر اس دنیا میں رہنا بلا شبہ ایک نا قابلِ معافی جرم کی حیثیت رکھتا ہے، عورت کے لیے بھی اور مرد کے لیے بھی۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2022 All issues

Printed page