Al-Risala · September 2022 · page 5

شکر ایک اعلیٰ عبادت

الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۲، صفحہ ۵

شکر ایک اعلیٰ عبادت

شکر کیا ہے۔ شکر اُس داخلی کیفیت کا نام ہے جو کسی نعمت کے گہرے احساس سے آدمی کے اندر پیدا ہوتی ہے۔ انگریزی میں اس کو گریٹ فل نیس (gratefulness) کہا جاتا ہے۔ عربی زبان کی مشہور ڈکشنری لسان العرب (جلد 4، صفحہ 423) کے مطابق، احسان کی معرفت اور اس کے تذکرے کا نام شکر ہے (اَلشُّکْرُ: عِرْفَانُ الإِحْسَانِ وَنَشْرُهُ)۔ راغب الاصفہانی کی کتاب المفردات في غريب القرآن (صفحہ 265) میں بتایا گیا ہے کہ شکر کا مطلب ہے ــــ نعمت کے بارے میں سوچنا اور اس کا اظہار کرنا (اَلشُّکْرُ: تصوّر النعمة وإظهارها)۔ مفسر القرطبی نے لکھا ہے ـــ وَالشُّکْرُ مَعْرِفَةُ الإِحْسَانِ وَالتَّحَدُّثُ بِهِ (تفسیر القرطبی، جلد 2، صفحہ 172)۔ شکر نام ہے احسان شناسی اور اس کے اعتراف کا۔

نعمت کا اعتراف (acknowledgement) ایک اعلیٰ انسانی صفت ہے۔ یہ اعتراف جب خدا کی نسبت سے ہو تو اسی کا نام شکر ہے۔ انسان کے اوپر خدا کی نعمتیں سب سے زیادہ ہیں، اس لیے انسان کو چاہیے کہ وہ سب سے زیادہ خداوند ذوالجلال کا شکر ادا کرے۔ حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ نے اپنی ایک دعا میں فرمایا: رَبِّ اجْعَلْنِي لَكَ شَكَّارًا (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 3831؛ سنن الترمذی، حدیث نمبر 3551؛ مسند احمد، حدیث نمبر 1997)۔ یعنی اے میرے رب! تو مجھ کو اپنا بہت زیادہ شکر کرنے والا بنا۔

قرآن میں بار بار یہ کہا گیا ہے کہ اے لوگو! خدا کے شکر گزار بندے بنو۔ مثلاً میٹھے پانی کا ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالی نے فرمایا: فَلَوْلَا تَشْكُرُونَ (56:70)۔ یعنی، تم شکر کیوں نہیں کرتے۔ انسان سے جو چیز سب سے زیادہ مطلوب ہے، وہ یہی شکر ہے۔ شیطان کی ساری کوشش یہ ہوتی ہے کہ وہ انسان کو شکر کے راستے سے ہٹا دے۔ قرآن کے مطابق، آغاز حیات میں اُس نے خدا کو چیلنج کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں انسانوں کو بہکاؤں گا، یہاں تک کہ تو اُن میں سے اکثر لوگوں کو اپنا

‹ Previous page Next page › Contents of September 2022 All issues

Printed page