شکر کی اہمیت
الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۲، صفحہ ۱۰
شکر کی اہمیت
طاغوت کا لفظی مطلب ہے، حد سے تجاوز کرنے والا۔ قرآن میں یہ لفظ شیطان کے لیے آیا ہے۔ کیوں کہ اس نے اللہ رب العالمین سے بغاوت کی۔ شیطان کی سب سے بڑی کوشش یہ ہے کہ وہ انسان کو شکایتی ذہن میں مبتلا کر کے اللہ سے دور کر دے۔ شیطان نے آدم کی تخلیق کے وقت اللہ رب العالمین کو چیلنج کرتے ہوئے کہا تھا : وَلَا تَجِدُ أَكْثَرَهُمْ شَاكِرِينَ (7:17)۔ یعنی ، تو اکثر انسانوں کو اعتراف کرنے والا نہ پائے گا۔
دین کا خلاصہ اللہ سے تعلق ہے۔ اللہ سے تعلق اگر انسان کو دریافت کے درجے میں حاصل ہوا ہو تو انسان کے اندر اپنے آپ میں یہ واقعہ ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے پورے دل و جان کے ساتھ ان انعامات کے منعم (giver) کا اعتراف کرے۔ اس کے برعکس ، جہاں اللہ کا اعتراف (شکر) نہ ہو، یقینی طور پر وہاں اللہ سے حقیقی تعلق بھی نہ ہوگا۔ انسان کے اندر اللہ کے شکر کا جذبہ کیسے پیدا ہوتا ہے۔ وہ تدبر و تفکر سے پیدا ہوتا ہے۔ اصل یہ ہے کہ اس دنیا میں انسان کو اپنے وجود سے لے کر لائف سپورٹ سسٹم (life support system) تک جو چیزیں ملی ہیں، وہ سب کا سب اللہ کا یک طرفہ عطیہ ہیں۔ اس دریافت کے بعد انسان کے اندر اپنے منعم حقیقی کے لیے اعتراف (acknowledgement) کا جذبہ ابھرتا ہے۔ اللہ رب العالمین کے اسی اعتراف کا مذہی نام 'شکر' ہے۔
تعلق باللہ فقہی یا قانونی حکم کے طور پر کسی کے اندر پیدا نہیں ہوتا، بلکہ وہ دریافت کے نتیجے کے طور پر پیدا ہوتا ہے۔ اگر ایسا ہو کہ بندے کے اندر ڈسکوری کے درجے میں اللہ سے تعلق پیدا ہو تو اس کے بعد اپنے آپ اس کے نتائج ظاہرہ ہوں گے، اس کی سوچ میں تعلق باللہ کی جھلک دکھائی دے گی۔ تعلق باللہ کا ایک ظاہر شکر (acknowledgement) ہے۔ اور جب اس قسم کا شکر کسی کو حاصل ہو جائے تو فطری طور پر اس کے اندر غور و فکر کا مزاج پیدا ہوتا ہے، یعنی وہ ہمیشہ اللہ رب العالمین کے بارے میں غور و فکر کرتا رہے۔ معرفت اسی غور و فکر کا نتیجہ ہے۔ اسی لیے دین میں تدبر یا غور و فکر کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2022 All issues