شکر ایک اعلیٰ عبادت
الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۲، صفحہ ۹
وہ سپر شکر کا ہدیہ اپنے رب کے حضور پیش کرے ۔ سوچ کے سوا کوئی بھی دوسری چیز نہیں ہے جو آدمی کو اِس اعلیٰ شکر کا تجربہ کرائے جو کہ خدا کو انسان سے مطلوب ہے۔
جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا، پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کرتے ہوئے فرمایا: رب اجعلنی لک شکّاراً ۔ کوئی انسان ، شُکّار یا بہت زیادہ شکر کرنے والا کیسے بنتا ہے۔ اس کا طریقہ یہ نہیں ہے کہ آدمی شکر کے کلمہ کو ہزاروں بار دہرائے، یا اور کوئی وظیفہ پڑھے۔ اس کو حاصل کرنے کا واحد ذریعہ غوروفکر ہے۔ مذکورہ دعا کا مطلب یہ ہے کہ خدایا، تو مجھ کور بانی غور و فکر کی توفیق دے، تاکہ میرے اندر اعلیٰ شکر کی کیفیات پیدا ہوں، جو کہ حقیقی معنوں میں کسی انسان کو خدا کا شکر گزار بندہ بناتی ہیں۔ آپ قرآن کا مطالعہ کریں تو آپ پائیں گے کہ قرآن میں شکر کو صبر کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔ مثلاً قرآن میں دنیا کی نعمتوں کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے: إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِكُلِّ صَبَّارٍ شَكُورٍ (31:31)۔ یعنی، اس میں نشانیاں ہیں ہر اُس انسان کے لیے جو بہت زیادہ صبر کرنے والا اور بہت زیادہ شکر کرنے والا ہو۔ اس قسم کی آیات پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ قانونِ الہیٰ کے مطابق، اعلیٰ شکر کی توفیق صرف اُن لوگوں کو ملتی ہے جو بہت زیادہ صبر کرتے ہوئے اس دنیا میں زندگی گزاریں۔ ایسا کیوں ہے ۔ اس کا سبب یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں انسان کو مکمل آزادی دی گئی ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ انسان اپنی آزادی کا غلط استعمال کرتا ہے۔ اس بنا پر یہاں مختلف قسم کی برائیاں (evils) پیدا ہو جاتی ہیں۔ یہ صورتِ حال خدا کے قانون کی بنا پر ہے، انسان اس کو بدلنے پر قادر نہیں۔ اس معاملے میں انسان کو ایک ہی اختیار (option) حاصل ہے، وہ یہ کہ وہ صبر و برداشت سے کام لے، تا کہ وہ دنیا میں نارمل طریقے سے رہ سکے۔
شکر ایک ایسا جذبہ ہے جو صرف ایک ایسے مائنڈ میں پیدا ہوتا ہے جو کامل طور پر مثبت (positive) ہو، کسی بھی قسم کا منفی فکر (negative thought) اس کے ذہن میں موجود نہ ہو۔ مثبت ذہن کا آدمی ہی خدا کی توفیق سے اعلیٰ شکر ادا کرنے کے قابل ہوتا ہے۔ صبر دراصل شکر کی قیمت ہے۔ جو آدمی یہ قیمت ادا نہ کرے، وہ شکر جیسی اعلیٰ عبادت بھی انجام نہیں دے سکتا۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2022 All issues