شکر کی تربیت
الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۲، صفحہ ۱۵
شکر کی تربیت
شکر کا مزاج کیسے پیدا ہوتا ہے، اس کو ایک واقعہ سے سمجھا جا سکتا ہے۔ ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ دوران گفتگو انھوں نے کہا کہ ہمارے یہاں اسلامی ذہن بنانے کے لیے بے شمار سرگرمیاں جاری ہیں، مگر پچاس سالہ کوششوں کے باوجود اب تک اسلامی انداز میں لوگوں کی ذہنی تربیت نہ ہوسکی۔ میں نے کہا کہ مجھے آپ کے بیان کے نصف ثانی سے اتفاق ہے۔ مگر مجھے اس کے نصف اول سے اتفاق نہیں۔ صرف اسلام کا نام لینے سے اسلامی تربیت نہیں ہوتی۔ اصل یہ ہے کہ اسلامی ذہن بنانے کے لیے صحیح رخ میں کوشش نہیں کی گئی۔ جب سمت درست نہ ہو تو مطلوب نتیجہ کیسے نکل سکتا ہے ۔ اسلامی مزاج بنانے کی ابتدا خدا کی معرفت اور خدا کے شکر کا مزاج پیدا کرنے سے ہوتی ہے۔
یہ مزاج کیسے پیدا ہوتا ہے۔ اس کو ایک مثال سے سمجھا جا سکتا ہے۔ پاکستان سے شائع ہونے والے پندرہ روزہ المنبر کے شمارہ 25 ستمبر 1991 میں ضیاء الحق شہید فاؤنڈیشن‘ کے زیر اہتمام ہونے والی کانفرنس کا تفصیلی تذکرہ کیا گیا تھا۔ اس میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ ضیاء الحق فاؤنڈیشن کو فوری طور پر قوم کے کردار اور فکر کی تہذیب و تربیت کا کام شروع کرنا چاہیے۔
مگر محض اس طرح اسلام کا نام لینے سے خدا کی معرفت اور اسلامی کردار پیدا نہیں ہو سکتا۔ اس کے لیے ضرورت ہوتی ہے کہ لوگوں کو حیات و کائنات کا اس طرح مطالعہ کرایا جائے کہ ان کے گردو پیش کی پوری دنیا ان کے لیے رزق ربانی کا دسترخوان بن جائے، تاکہ انسان خدا کی بلیسنگ کے ذریعہ خدا کی معرفت حاصل کرے، اور خدا کا شکر گزار بنے۔ مگر مذکورہ میگزین میں سابق صدر جنرل ضیاء الحق صاحب کے تذکرہ کے تحت درج ہے کہ یہ شہید صدر ہی تھے جن کی بدولت (سویت یونین ٹوٹنے کے بعد) قرآن مجید کے لاکھوں نسخے روس میں تقسیم ہوتے رہے (صفحہ 22)۔ المنبر میں دعوتی عمل کے واقعہ کو تمام تر ایک انسان کی بدولت ظہور میں آنے والا واقعہ بتایا گیا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2022 All issues