شکر کی تربیت
الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۲، صفحہ ۱۶
اسی واقعہ کا ذکر الرسالہ (نومبر 1990، صفحہ 27) میں بھی کیا گیا۔ سوویت سسٹم کا تجزیہ کرتے ہوئے راقم الحروف نے لکھا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی اعلیٰ تدبیروں کے ذریعہ حالات میں وہ تبدیلی پیدا کی جس کے نتیجہ میں سوویت یونین کی آہنی دیواریں ٹوٹ گئیں اور وہاں اسلام کا داخلہ ممکن ہو گیا۔ کوئی واقعہ پیش آئے تو اس کو دیکھنے کے دو طریقے ہیں ۔ اس واقعہ کو اکابر قوم یا قومی ہیرو کے خانے میں ڈال کر دیکھنا۔ اس کے برعکس، دوسرا طریقہ ہے اس واقعہ کو خدا کے خانہ میں ڈال کر دیکھنا۔ الرسالہ کے مضمون کو پڑھ کر آدمی کے اندر شکر خداوندی کا جذبہ امنڈے گا۔ مزید اس کے اندر یہ جذبہ ابھرے گا کہ موجودہ زمانہ میں اسلامی دعوت کے نئے امکانات پیدا ہوئے ہیں، ہم کو چاہیے کہ ہم ان کو استعمال کریں۔ جب کہ المنبر کے بیان سے صرف ہیرو ور شپ کا جذبہ ابھرے گا، اس کے سوا اور کچھ نہیں۔ اس سے آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ اسلامی تربیت کے لیے مسلمانوں کا موجودہ طریقہ کس طرح ناکافی ہے۔
جمہور یہ مالدیپ بحر ہند میں واقع جزائر پر مشتمل ایک ملک ہے۔ دسمبر 1987 میں مالدیپ کے لیے میرا ایک سفر ہوا۔ یہ سفر ایک انٹرنیشنل اسلامک کانفرنس میں شرکت کے لیے تھا جس کا اہتمام حکومت مالدیپ کے تعاون سے کیا گیا تھا۔ 5 دسمبر 1987 کی صبح کو فجر سے پہلے گھر سے روانہ ہونا تھا۔ 4 دسمبر کی شام کو مختلف کاموں میں دیر ہوگئی اور میں ساڑھے بارہ بجے سے پہلے بستر پر نہ جاسکا۔ سوتے وقت دل سے دعا نکلی کہ خدایا مجھے تین بجے جگادیجیے۔ تاخیر کی وجہ سے نیند بھی کسی قدر دیر میں آئی، اور میں سو گیا۔ میں بالکل گہری نیند سورہا تھا کہ خلاف معمول اچانک نیند کھل گئی ۔ دیکھا تو گھڑی کی ایک سوئی تین پر تھی اور دوسری سوئی بارہ پر۔ میں نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ دل نے کہا کہ اللہ کی مدد ٹھیک اپنے وقت پر آتی ہے، اگر چہ انسان اپنی عجلت پسندی کی وجہ سے گھبرا اٹھتا ہے اور سمجھتا ہے کہ شاید خدا کی مدد آنے والی نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2022 All issues