انسان اور نظامِ ربوبیت
الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۲، صفحہ ۱۷
انسان اور نظامِ ربوبیت
انسان ایک مکمل وجود ہے، مگر اسی کے ساتھ وہ مکمل طور پر خارجی سہارے کا محتاج وجود ہے۔ یعنی، انسان کو اپنے وجود کی تکمیل کے لیے ہر لمحہ ایک مددگار نظام درکار ہے۔ اس نظام کے بغیر وہ اپنے وجود کو باقی نہیں رکھ سکتا۔ اس حقیقت کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَنْتُمُ الْفُقَرَاءُ إِلَى اللَّهِ (35:15) یعنی، اے لوگو، تم اللہ کے محتاج ہو۔ اس مددگار نظام کا نام نظامِ ربوبیت ہے، یعنی رب العالمین کا قائم کردہ نظام۔ مثلاً انسان کے اندر نظام ہضم (digestive system) ہے، مگر غذائی اشیا کی سپلائی باہر سے ہوتی ہے۔ انسان کے اندر نظام تنفس (respiratory system) ہے، مگر آکسیجن اس کو خدا کے کارخانے سے ملتا ہے۔ انسان کے پاس نظامِ بصارت ہے، مگر وہ روشنی خدا کی طرف سے آتی ہے جس کے بغیر وہ دیکھ نہیں سکتا۔ انسان کے پاس نظامِ سماعت ہے، مگر اُس ہوا کو چلانے والا خدا ہے جس کے ذریعہ انسان کے کانوں تک آواز پہنچتی ہے، وغیرہ۔ انسانی وجود کے اندر اس قسم کے بہت سے نظام ہیں، مگر ہر نظام اپنی کارکردگی کے لیے خارجی مدد کا محتاج ہے۔ یہ مختلف قسم کے خارجی نظام جن پر انسانی زندگی کا انحصار ہے۔ ان کے مجموعہ کو لائف سپورٹ سسٹم کہا جاتا ہے۔ یہ اگر سسٹم موجود نہ ہو تو انسان کا پورا وجود بے معنی ہو جائے گا۔ مچھلی پانی کے باہر مسلسل تڑپتی رہتی ہے۔ ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ اس کو زندہ رہنے کے لیے آکسیجن کی ضرورت ہے اور مچھلی صرف پانی سے آکسیجن لے سکتی ہے۔ مچھلی کی یہ مثال ہر آدمی کے لیے بہت زیادہ سبق آموز ہے۔ ہر وقت انسان کو سوچنا چاہیے کہ خدا اگر لائف سپورٹ سسٹم یا بالفاظ دیگر اپنے نظامِ ربوبیت کو واپس لے لے تو میرا کیا حال ہوگا۔ قرآن میں ہے: بتاؤ، اگر اللہ قیامت کے دن تک تم پر ہمیشہ کے لیے رات کردے تو اللہ کے سوا کون معبود ہے جوتمہارے لیے روشنی لے آئے۔ تو کیا تم لوگ سنتے نہیں (28:71)۔ یہ سوچ اگر آدمی کے اندر حقیقی طور پر پیدا ہو جائے تو یہی ایک بات اس کے اندر تمام اعلی انسانی قدروں (human values) کو پیدا کرنے کا ذریعہ بن جائے گی۔ مثلاً تواضع (modesty)، شکر ، عفو و درگزر، خیر خواہی، انصاف، وغیرہ۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2022 All issues